سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
99. باب زيارة القبور
باب: قبروں کی زیارت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2044
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَصَلَّى بِهَا"، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں جو ذی الحلیفہ میں ہے اونٹ بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی، چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2044]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کے قریب «بَطْحَاء» (کھلے میدان) میں اپنی اونٹنی بٹھائی اور وہاں نماز پڑھی۔ چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس پر عمل کیا کرتے تھے۔“ (درج ذیل اثر میں اس کی وضاحت ہے۔) [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2044]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 89 (484)، والحج 14 (1532)، 15 (1533)، 16 (1535)، والعمرة 14 (1799)، والمزارعة 16 (2336)، صحیح مسلم/الحج 6 (1188)، 77 (1275)، سنن النسائی/المناسک 24 (2660)، (تحفة الأشراف: 8338)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 69(206)، مسند احمد (2/28، 87، 112، 138) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1532) صحيح مسلم (1257 بعد ح 1345)
حدیث نمبر: 1867
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شجرہ (جو ذی الحلیفہ میں تھا) کے راستے سے (مدینہ سے) نکلتے تھے اور معرس (مدینہ سے چھ میل پر ایک موضع ہے) کے راستہ سے (مدینہ میں) داخل ہوتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1867]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منورہ سے) نکلتے ہوئے شجرہ والی راہ اختیار فرماتے (یعنی ذوالحلیفہ والی، جہاں اس زمانے میں ایک درخت بھی تھا) اور واپسی میں معرس والی جانب سے داخل ہوتے (یعنی مدینہ میں)۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1867]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7870)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 37 (1257)، مسند احمد (2/29-30) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کی باب سے مناسبت یہ ہے کہ جب مکہ میں داخل ہونے اوراس سے نکلنے کی بات آئی تو مدینہ سے نکلنے اور داخل ہونے کی بابت بھی ایک حدیث باب میں ذکر کر دیا، اور اس سے یہ بھی مستنبط کرنا ہے کہ مدینہ ہی نہیں کسی بھی بستی میں داخل ہونے یا اس سے نکلنے کے راستے میں فرق کرنا چاہئے، جیسا کہ اس حدیث پر امام نووی نے صحیح مسلم میں باب باندھا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه أحمد (2/142 وسنده صحيح) وانظر الحديث السابق (1866)
أخرجه أحمد (2/142 وسنده صحيح) وانظر الحديث السابق (1866)
حدیث نمبر: 2012
حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ" يَهْجَعُ هَجْعَةً بِالْبَطْحَاءِ، ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ، وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ".
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بطحاء میں نیند کی ایک جھپکی لے لیتے پھر مکہ میں داخل ہوتے اور بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2012]
جناب نافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”(منیٰ سے واپسی پر) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ «بَطْحَاء» (اَبْطَح، مُحَصَّب) میں ذرا دیر سوتے، پھر مکہ میں داخل ہوتے اور کہتے تھے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔“”(یعنی طواف وداع کیا کرتے تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2012]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6658، 7590)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 148(1767)، صحیح مسلم/الحج 59 (1275)، سنن الترمذی/الحج 81 (921)، سنن ابن ماجہ/المناسک 81 (3068)، مسند احمد (2/28، 138) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البخاري (1768 مطولًا)
رواه البخاري (1768 مطولًا)
حدیث نمبر: 2045
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ:" لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُجَاوِزَ الْمُعَرَّسِ إِذَا قَفَلَ رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى يُصَلِّيَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُ، لِأَنَّهُ بَلَغَنِي أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَّسَ بِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيَّ، قَالَ: الْمُعَرَّسُ عَلَى سِتَّةِ أَمْيَالٍ مِنْ الْمَدِينَةِ.
مالک کہتے ہیں جب کوئی مدینہ واپس لوٹے اور معرس پہنچے تو اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ آگے بڑھے جب تک کہ نماز نہ پڑھ لے جتنا اس کا جی چاہے اس لیے کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں رات کو قیام کیا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسحاق مدنی کو کہتے سنا: معرس مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2045]
امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا: ”مدینہ واپس لوٹنے والے کو لائق نہیں کہ مقامِ «مُعَرَّس» (بطحاء مسجد ذی الحلیفہ) سے ویسے ہی گزر جائے، بلکہ چاہیے کہ جس قدر دل چاہے نماز پڑھے کیونکہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں یہاں اترتے تھے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”میں نے محمد بن اسحاق مدنی سے سنا تھا کہ ”معرس“ مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2045]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، موطا امام مالک/الحج/ عقب حدیث (206) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الف: انظر الحديث السابق (2044)، ب: رواية عبدالله العمري عن نافع قوية
الف: انظر الحديث السابق (2044)، ب: رواية عبدالله العمري عن نافع قوية