🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب قوله تعالى { لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن }
باب: آیت کریمہ «لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن» کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2090
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ سورة النساء آية 19، وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَرِثُ امْرَأَةَ ذِي قَرَابَتِهِ فَيَعْضُلُهَا حَتَّى تَمُوتَ، أَوْ تَرُدَّ إِلَيْهِ صَدَاقَهَا، فَأَحْكَمَ اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ، وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة» اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو تم انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو (سورۃ البقرہ: ۲۳۲) کے متعلق مروی ہے کہ ایسا ہوتا تھا کہ آدمی اپنی کسی قرابت دار عورت کا وارث ہوتا تو اسے دوسرے سے نکاح سے روکے رکھتا یہاں تک کہ وہ یا تو مر جاتی یا اسے اپنا مہر دے دیتی تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں حکم نازل فرما کر ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2090]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آیت کریمہ ﴿لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة النساء: 19] کی تفسیر میں مروی ہے کہ آدمی اپنے قریبی کی وراثت میں اس کی بیوی کا بھی وارث بن جاتا تھا اور اسے روکے رکھتا تاآنکہ وہ مر جاتی یا اسے اپنا حق مہر واپس کرتی، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عمل سے منع فرما دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2090]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6256) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
انظر الحديث السابق (1304)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2089
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ الشَّيْبَانِيُّ وَذَكَرَهُ عَطَاءٌ أَبُو الْحَسَنِ السُّوَائِيُّ، وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ: لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلا تَعْضُلُوهُنَّ سورة النساء آية 19، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ إِذَا مَاتَ كَانَ أَوْلِيَاؤُهُ أَحَقَّ بِامْرَأَتِهِ مِنْ وَلِيِّ نَفْسِهَا، إِنْ شَاءَ بَعْضُهُمْ زَوَّجَهَا أَوْ زَوَّجُوهَا، وَإِنْ شَاءُوا لَمْ يُزَوِّجُوهَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت کریمہ: «لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن» تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم عورتوں کے بھی زبردستی وارث بن بیٹھو اور نہ ہی تم انہیں نکاح سے اس لیے روک رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں کچھ لے لو (سورۃ البقرہ: ۱۹) کی تفسیر کے سلسلہ میں مروی ہے کہ جب آدمی کا انتقال ہو جاتا تو اس (آدمی) کے اولیا یہ سمجھتے تھے کہ اس عورت کے ہم زیادہ حقدار ہیں بہ نسبت اس کے ولی کے، اگر وہ چاہتے تو اس کا نکاح کر دیتے اور اگر نہ چاہتے تو نہیں کرتے، چنانچہ اسی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2089]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کریمہ ﴿لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ﴾ [سورة النساء: 19] کی تفسیر میں فرمایا: جب کوئی آدمی مر جاتا تھا تو اس کے وارث اس عورت کے اپنے ولی سے بھی زیادہ اس کے حقدار بن جاتے تھے۔ اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو خود ہی اس سے نکاح کر لیتا یا جس سے وہ چاہتے اس کا نکاح کر دیتے تھے اور اگر چاہتے تو اس کا نکاح ہی نہ کرتے، تو اس سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2089]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/تفسیر النساء 6 (4579)، الإکراہ 6 (6948)، سنن النسائی/ الکبری/ التفسیر (11094)، (تحفة الأشراف: 6100، 6256)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی آدمی مر جائے تو اس کی عورت کو اپنے نکاح کا اختیار ہے، میت کے رشتہ داروں کو اسے زبردستی اپنے نکاح میں لینا جائز نہیں، اور نہ انہیں یہ حق ہے کہ وہ اسے نکاح سے روکیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4579، 6948)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں