سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
86. باب في الجنب يعود
باب: جنبی غسل سے پہلے دوبارہ جماع کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 218
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَكَذَا رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَمَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، كُلُّهُمْ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ایک ہی غسل سے اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے ہشام بن زید نے انس سے اور معمر نے قتادہ سے، اور قتادہ نے انس سے اور صالح بن ابی الاخضر نے زہری سے اور ان سب نے انس رضی اللہ عنہ سے اور انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 218]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار اپنی (تمام) بیویوں کے پاس آئے اور ایک ہی غسل کیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”(ایک ہی غسل کا ذکر) دیگر اسانید سے بھی ثابت ہے۔ یعنی: ہشام بن زید نے انس رضی اللہ عنہ سے اور معمر نے بواسطہ قتادہ، انس رضی اللہ عنہ سے اور صالح بن ابی الاخضر نے بواسطہ زہری، انس رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 218]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أخرجه:سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/ باب: إتيان النساء قبل إحداث الغسل/ ح: 264 من حديث سماعيل بن إبراهيم وهو ابن علية به، (تحفة الأشراف: 1503، 568)، وقد أخرجه: صحيح البخاري/الغسل 268، 284، والنكاح 5068، 5215، صحيح مسلم/كتاب الحيض/ باب جواز نوم الجنب واستحباب الوضوء له وغسل الفرج إذا أراد أن يأكل أو يشرب أو ينام أو يجامع:/ فواد: 309، دارالسلام: 708، سنن ترمذي/كتاب الطهارة / باب ما جاء فى الرجل يطوف على نسائه بغسل واحد/ ح: 140، سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/ باب: ما جاء فيمن يغتسل من جميع نسائه غسلا واحدا/ ح: 588، مسند احمد 3/225، سنن الدارمي/الطهارة 71 780 صحيح»
وضاحت: ۱؎: یعنی سب سے صحبت کی، اور پھر آخر میں غسل کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وانظر أحمد (3/111 ح 12121) وسنده صحيح
وانظر أحمد (3/111 ح 12121) وسنده صحيح
حدیث نمبر: 219
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَمَّتِهِ سَلْمَى، عَنْ أَبِي رَافِعٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى نِسَائِهِ يَغْتَسِلُ عِنْدَ هَذِهِ وَعِنْدَ هَذِهِ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَجْعَلُهُ غُسْلًا وَاحِدًا؟ قَالَ: هَذَا أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ أَنَسٍ أَصَحُّ مِنْ هَذَا.
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنی بیویوں کے پاس گئے، ہر ایک کے پاس غسل کرتے تھے ۱؎۔ ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! ایک ہی بار غسل کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ زیادہ پاکیزہ، عمدہ اور اچھا ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: انس رضی اللہ عنہ کی روایت اس سے زیادہ صحیح ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 219]
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ایک بار) اپنی ازواج کے پاس آئے اور ہر ایک کے ہاں غسل کیا۔ ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا آپ (آخر میں) ایک ہی غسل نہیں کر لیتے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ زیادہ پاکیزہ، عمدہ اور طہارت کا باعث ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث (جو اوپر ذکر ہوئی) اس سے زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 219]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أخرجه: سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/ . باب: فيمن يغتسل عند كل واحدة غسلا/ ح: 590 من حديث حماد بن سلمة به ٭ سلمي صحح لها الحاكم والذهبي: 311/2، (تحفة الأشراف: 12032)، وقد أخرجه: مسند احمد (6/8، 9، 391) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ہر ایک سے جماع کر کے غسل کرتے تھے۔
۲؎: یعنی اس سے پہلے والی حدیث (۲۱۸)۔
۲؎: یعنی اس سے پہلے والی حدیث (۲۱۸)۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (470)
سلميٰ عمة عبد الرحمن بن أبي رافع: وثقها ابن حبان وصحح لھا الحاكم والذهبي
مشكوة المصابيح (470)
سلميٰ عمة عبد الرحمن بن أبي رافع: وثقها ابن حبان وصحح لھا الحاكم والذهبي