🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
89. باب الجنب يأكل
باب: جنبی کھانا کھائے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 222
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں جب سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کر لیتے، جیسے نماز کے لیے وضو کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 222]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب غسل لازم ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سونا چاہتے تو وضو کر لیتے، نماز والا وضو۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطہارة 6 (305)، سنن النسائی/الطھارة 164 (256)، 165 (257)، 166 (258)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 99 (584)، (تحفة الأشراف: 17769)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 25 (286)، مسند احمد (6/85)، سنن الدارمی/الطھارة 73 (784) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (305)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 221
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، ثُمَّ نَمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ مجھے رات کو جنابت لاحق ہو جاتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: وضو کر لو، اور اپنا عضو تناسل دھو کر سو جاؤ۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 221]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ مجھے رات کو جنابت لاحق ہو جاتی ہے (یعنی نہانے کی ضرورت پڑتی ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو کرو، اپنی شرمگاہ دھو اور پھر سو جایا کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الغسل 27 (290)، صحیح مسلم/الطہارة 6 (306)، سنن النسائی/الطھارة 167، (261)، (تحفة الأشراف: 7224)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 99 (585)، موطا امام مالک/الطہارة19(76)، مسند احمد (2/64)، سنن الدارمی/الطھارة 73 (783) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (290) صحيح مسلم (306)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 224
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ، تَوَضَّأَ تَعْنِي وَهُوَ جُنُبٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے اور آپ حالت جنابت میں ہوتے، تو وضو کر لیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 224]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر حالت جنابت میں ہوتے اور کچھ کھانا چاہتے یا سونا چاہتے تو وضو کر لیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 224]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطہارة 6(305)، سنن النسائی/الطہارة 163 (256)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 103 (591)، (تحفة الأشراف: 15926)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/126، 191، 192) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: جنبی اپنا غسل مؤخر کرنا چاہے تو مستحب ومؤکد یہی ہے کہ نماز والا وضو کر لے۔ اور جنبی رہنے اور (کم از کم) ترک وضو کو اپنی عادت نہ بنائے، مگر کھانے پینے کے لیے صرف ہاتھ دھو لینا بھی کافی ہے جیسا کہ پچھلی حدیث ۲۲۳ میں ذکر ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (305)
مشكوة المصابيح (4442)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 225
حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَوْ نَامَ، أَنْ يَتَوَضَّأَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: بَيْنَ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ رَجُلٌ، وقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: الْجُنُبُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ، تَوَضَّأَ.
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو رخصت دی ہے کہ جب وہ کھانے پینے یا سونے کا ارادہ کرے تو وضو کر لے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن یعمر اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے درمیان اس حدیث میں ایک اور شخص ہے، علی بن ابی طالب، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم نے کہا ہے کہ جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے تو وضو کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 225]
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی آدمی کے لیے رخصت دی ہے کہ جب وہ کچھ کھانا پینا چاہے یا سونا چاہے تو وضو کر لیا کرے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سند میں یحییٰ بن یعمر اور عمار بن یاسر کے مابین ایک آدمی کا واسطہ ہے (یعنی حدیث منقطع ہے) اور سیدنا علی بن ابی طالب، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم نے کہا: جنبی جب کھانا چاہے تو وضو کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 225]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الجمعة 78 (613)، (تحفة الأشراف: 10371)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/320) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس میں دو علتیں ہیں: سند میں انقطاع ہے اور عطاء خراسانی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (613) ويأتي (4176،4601)
يحيي بن يعمر رواه عن رجل عن عمار بن ياسر والرجل مجھول
والحديث السابق (الأصل: 224) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 21

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں