سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب في الظهار
باب: ظہار کا بیان۔
حدیث نمبر: 2223
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرِ السَّاقَ.
اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اسی طرح روایت ہے لیکن اس میں پنڈلی کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2223]
جناب عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل بیان کرتے ہیں، مگر اس میں (اسماعیل راوی نے) ”پنڈلی“ کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2223]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2221، (تحفة الأشراف: 6036) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (1199 وسنده حسن) والنسائي (3487 وسنده حسن) وابن ماجه (2065 وسنده حسن)
أخرجه الترمذي (1199 وسنده حسن) والنسائي (3487 وسنده حسن) وابن ماجه (2065 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 2221
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ ثُمَّ وَاقَعَهَا قَبْلَ أَنَّ يُكَفِّرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ"، قَالَ: رَأَيْتُ بَيَاضَ سَاقِهَا فِي الْقَمَرِ، قَالَ:" فَاعْتَزِلْهَا حَتَّى تُكَفِّرَ عَنْكَ".
عکرمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی وہ اس سے صحبت کر بیٹھا چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس فعل پر کس چیز نے آمادہ کیا؟“ اس نے کہا: چاندنی رات میں میں نے اس کی پنڈلی کی سفیدی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اس سے اس وقت تک الگ رہو جب تک کہ تم اپنی طرف سے کفارہ ادا نہ کر دو“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2221]
جناب عکرمہ (مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما) سے منقول ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس کے ساتھ ہم بستر بھی ہو گیا، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اپنا واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے ایسا کیوں کیا؟“ اس نے کہا: ”میں نے چاندنی میں اس کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ لی تھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اب اس سے دور رہنا حتیٰ کہ اپنا کفارہ دے لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطلاق 19 (1199)، سنن النسائی/الطلاق 33 (3487)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 26 (2065)، (تحفة الأشراف: 6036) (صحیح)» (دیگر شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر روایت بھی صحیح ہے ورنہ خود یہ روایت مرسل ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3302)
انظر الحديث الآتي (2223)
مشكوة المصابيح (3302)
انظر الحديث الآتي (2223)
حدیث نمبر: 2222
حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ فَرَأَى بَرِيقَ سَاقِهَا فِي الْقَمَرِ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّرَ".
عکرمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر اس نے چاندنی میں اس کی پنڈلی کی چمک دیکھی، تو اس سے صحبت کر بیٹھا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اسے کفارہ ادا کرنے کا حکم فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2222]
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر چاند کی چاندنی میں اس کی پنڈلی کی سفیدی دیکھی تو اس سے مجامعت کر بیٹھا، تب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6036) (صحیح) (سابقہ روایت دیکھئے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث الآتي (2223)
انظر الحديث الآتي (2223)