🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. باب فِي الْجُنُبِ يُؤَخِّرُ الْغُسْلَ
باب: جنبی نہانے میں دیر کرے اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 226
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ:" أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ، أَوْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِهِ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ، أَمْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِهِ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ، أَمْ يَخْفُتُ بِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا جَهَرَ بِهِ، وَرُبَّمَا خَفَتَ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً".
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے پہلے حصہ میں غسل جنابت کرتے ہوئے دیکھا ہے یا آخری حصہ میں؟ کہا: کبھی آپ رات کے پہلے حصہ میں غسل فرماتے، کبھی آخری حصہ میں، میں نے کہا: اللہ اکبر! شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے۔ پھر میں نے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے پہلے حصہ میں وتر پڑھتے دیکھا ہے یا آخری حصہ میں؟ کہا: کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے حصہ میں پڑھتے تھے اور کبھی آخری حصہ میں، میں نے کہا: اللہ اکبر! اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے۔ پھر میں نے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن زور سے پڑھتے دیکھا ہے یا آہستہ سے؟ کہا: کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم زور سے پڑھتے اور کبھی آہستہ سے، میں نے کہا: اللہ اکبر! اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس امر میں وسعت رکھی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 226]
جناب غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ارشاد فرمائیے! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت رات کے ابتدائی حصے میں کر لیتے تھے یا آخر رات میں؟ انہوں نے جواب دیا: بعض اوقات ابتدائے رات میں کرتے تھے اور بعض اوقات رات کے آخری حصے میں۔ میں نے کہا: «اللّٰهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً» اللہ سب سے بڑا ہے، حمد ہے اس اللہ کی جس نے اس معاملے میں وسعت دی۔ میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصے میں وتر پڑھ لیتے تھے یا آخر میں؟ انہوں نے کہا: کبھی رات کی ابتدا میں اور کبھی آخر میں پڑھتے تھے۔ میں نے کہا: «اللّٰهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً» اللہ سب سے بڑا ہے، حمد ہے اس اللہ کی جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی۔ میں نے کہا: یہ فرمائیے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید اونچی آواز سے پڑھتے تھے یا خاموشی سے؟ انہوں نے فرمایا کہ کبھی اونچی آواز سے پڑھتے تھے اور کبھی دھیمی آواز اور خاموشی سے۔ میں نے کہا: «اللّٰهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً» اللہ سب سے بڑا ہے، حمد ہے اس اللہ کی جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 226]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطھارة 141 (223)، والغسل 6 (404)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 179(1354)، (تحفة الأشراف: 17429)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 6 (307) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: صالحین امت کے سوالات پر غور کیا جائے کہ ان کی بنیاد اللہ کی رضا کی طلب، اس کی قربت کا شوق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا اتباع ہوتا تھا۔ غسل جنابت کو موخر کرنا مباح ہے، مگر مستحب موکد یہ ہے کہ وضو کر کے سویا جائے۔ نماز وتر کو رات کے کسی بھی وقت ادا کرنا مباح ہے، مگر ترغیب اور ترجیح یہی ہے کہ اسے رات کے آخری حصے میں (نماز تہجد کے بعد) ادا کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی تلاوت قرآن کا حقیقی وقت اور موقع رات میں نماز تہجد ہوا کرتا تھا۔ اس قراءت میں اہل خانہ کی رعایت رکھنا بہت ضروری ہے کہ زیادہ اونچی آواز سے دوسروں کو تشویش نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1263)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 222
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں جب سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کر لیتے، جیسے نماز کے لیے وضو کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 222]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب غسل لازم ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سونا چاہتے تو وضو کر لیتے، نماز والا وضو۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطہارة 6 (305)، سنن النسائی/الطھارة 164 (256)، 165 (257)، 166 (258)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 99 (584)، (تحفة الأشراف: 17769)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 25 (286)، مسند احمد (6/85)، سنن الدارمی/الطھارة 73 (784) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (305)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں