سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب فيما تجتنبه المعتدة في عدتها
باب: عدت گزارنے والی عورت کو جن چیزوں سے بچنا چاہئے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 2303
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ. وَلَيْسَ فِي تَمَامِ حَدِيثِهِمَا. قَالَ الْمِسْمَعِيُّ: قَالَ يَزِيدُ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ فِيهِ:" وَلَا تَخْتَضِبُ". وَزَادَ فِيهِ هَارُونُ:" وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے، لیکن ان دونوں راویوں کی حدیثوں میں پوری مشابہت نہیں ہے، مسمعی کا بیان ہے کہ یزید کہتے ہیں میں تو صرف یہی جانتا ہوں کہ اس میں ہے کہ ”خضاب نہ لگائے“ اور ہارون نے اس میں اتنا اور اضافہ کیا ہے کہ: ”رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے سوائے سفید سیاہ دھاری دار کپڑے کے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18134) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5342، 5343) صحيح مسلم (938)
حدیث نمبر: 2302
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ الْقُهِسْتَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ السَّهْمِيَّ، عَنْ هِشَامٍ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْجَرَّاحِ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُحِدُّ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا أَدْنَى طُهْرَتِهَا إِذَا طَهُرَتْ مِنْ مَحِيضِهَا بِنُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ". قَالَ يَعْقُوبُ مَكَانَ عَصْبٍ:" إِلَّا مَغْسُولًا". وَزَادَ يَعْقُوبُ:" وَلَا تَخْتَضِبُ".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کسی پر بھی تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوائے شوہر کے، وہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ منائے گی (اس عرصہ میں) وہ سفید سیاہ دھاری دار کپڑے کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا نہ پہنے، نہ سرمہ لگائے، اور نہ خوشبو استعمال کرے، ہاں حیض سے فارغ ہونے کے بعد تھوڑی سی قسط یا اظفار کی خوشبو (حیض کے مقام پر) استعمال کرے“۔ راوی یعقوب نے: ”سفید سیاہ دھاری دار کپڑے“ کے بجائے: ”دھلے ہوئے کپڑے“ کا ذکر کیا، انہوں نے یہ بھی اضافہ کیا کہ اور نہ خضاب لگائے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2302]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 12 (313)، الجنائز 30 (1278)، الطلاق 47 (5339)، 49 (5342)، صحیح مسلم/الطلاق 9 (938)، سنن النسائی/الطلاق 64 (3564)، 65 (3566)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 35 (2087)، (تحفة الأشراف: 18134)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/65)، سنن الدارمی/الطلاق 13 (2332) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5342، 5343) صحيح مسلم (938)
مشكوة المصابيح (3331)
مشكوة المصابيح (3331)