🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. باب في صوم العيدين
باب: عیدین (عیدالفطر اور عید الاضحی) کے دن روزہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2417
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى، وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي سَاعَتَيْنِ بَعْدَ الصُّبْحِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں کے روزوں سے منع فرمایا: ایک عید الفطر کے دوسرے عید الاضحی کے، اسی طرح دو لباسوں سے منع فرمایا ایک صمّاء ۱؎ دوسرے ایک کپڑے میں احتباء ۲؎ کرنے سے (جس سے ستر کھلنے کا اندیشہ رہتا ہے) نیز دو وقتوں میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا: ایک فجر کے بعد، دوسرے عصر کے بعد۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2417]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں کے روزوں سے منع فرمایا ہے، یعنی عید الفطر اور عید الاضحی کے دنوں میں۔ اور دو طرح سے کپڑے لپیٹنے سے روکا ہے۔ ایک یوں کہ کوئی پوری طرح سے کپڑے میں ایسے لپٹ جائے کہ کوئی عضو بھی اس سے باہر نہ رہے۔ اور دوسری صورت یوں کہ اپنے اوپر کپڑا لپیٹ کر اس طرح بیٹھے کہ ایک جانب سے شرمگاہ کو ننگا کر دے۔ اور دو وقت میں نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا ہے، یعنی نماز فجر اور نماز عصر کے بعد۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجمعة 6 (884)، وجزاء الصید 26 (1864)، والصوم 68 (1996)،صحیح مسلم/الصوم22 (827)، سنن الترمذی/الصوم 58 (772)، (تحفة الأشراف: 4404)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 36 (1722)، مسند احمد (3/34، 96)، سنن الدارمی/الصوم 43 (1794) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «صماء» کی صورت یہ ہے کہ آدمی پورے جسم پر کپڑا لپیٹ لے جس میں کوئی ایسا شگاف نہ ہو کہ ہاتھ باہر نکال سکے اور اپنے ہاتھ سے کوئی موذی چیز دفع کر سکے۔
۲؎: «احتباء» کی صورت یہ ہے کہ دونوں پاؤں کھڑا رکھے، انہیں پیٹ سے ملائے رکھے، اور دونوں سرین پر بیٹھے اور کپڑے سے دونوں پاؤں اور پیٹ باندھ لے یا ہاتھوں سے حلقہ دے لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1991، 1992) صحيح مسلم (827 بعد ح 1138)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 635
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" إِذَا كَانَ لِأَحَدِكُمْ ثَوْبَانِ فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَلْيَتَّزِرْ بِهِ وَلَا يَشْتَمِلِ اشْتِمَالَ الْيَهُودِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو چاہیئے کہ ان دونوں میں نماز پڑھے، اور اگر ایک ہی کپڑا ہو تو چاہیئے کہ اسے تہہ بند بنا لے اور اسے یہودیوں کی طرح نہ لٹکائے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 635]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یا یہ کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تم میں سے کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو ان میں نماز پڑھے۔ اگر ایک ہی ہو تو اسے تہبند بنا لے اور یہودیوں کی طرح نہ لپیٹے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 635]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7583)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/148) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «اشتمال اليهود» یہود کی طرح لپیٹنے کا مطلب یہ ہے کہ چادر اس طرح اوڑھی جائے کہ دونوں ہاتھ بھی اندر ہی بند ہو کر رہ جائیں اور انہیں باہر نکالنا آسان نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (771)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 636
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنِيبِ عُبَيْدُ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ فِي لِحَافٍ لَا يَتَوَشَّحُ بِهِ وَالْآخَرُ أَنْ تُصَلِّيَ فِي سَرَاوِيلَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ رِدَاءٌ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے «لحاف» چادر میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر نہ ڈالا جا سکے، اور دوسری بات جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے یہ کہ تم پاجامہ میں نماز پڑھو اور تمہارے اوپر کوئی چادر نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 636]
جناب عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی چادر میں ایسے نماز پڑھے کہ اسے لپیٹا نہ ہو، دوسرے یہ کہ صرف پاجامے میں نماز پڑھے اور اس پر چادر نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1987) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: عمداً چھوٹا کپڑا لینا کہ کندھوں پر کچھ نہ آ سکے یا جان بوجھ کر کندھوں کو ننگا رکھنا ناجائز ہے۔ حسب وسعت لباس پورا ہونا چاہیے۔ پاجامے پر چادر کی تلقین ستر کے لیے ہے کہ پوشیدہ جسم کے حصے کپڑے کے اوپر سے بھی نمایاں نہ ہوں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه البيھقي (2/236 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2416
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، أَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى فَتَأْكُلُونَ مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ، وَأَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ".
ابو عبید کہتے ہیں کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے: عید الاضحی کے روزے سے تو اس لیے کہ تم اس میں اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو، اور عید الفطر کے روزے سے اس لیے کہ تم اپنے روزوں سے فارغ ہوتے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2416]
ابو عبید کہتے ہیں کہ میں عید کے روز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر تھا۔ آپ نے پہلے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عید کے) ان دو دنوں میں روزے سے منع فرمایا ہے۔ قربانی کے دن میں تم اپنی قربانیوں کے گوشت کھاتے ہو اور عید الفطر میں تم روزوں سے فارغ ہوتے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 66 (1990)، الأضاحی 16 (5571)، صحیح مسلم/الصیام 22 (1137)، سنن الترمذی/الصوم 58 (771)، سنن ابن ماجہ/الصیام 36 (1722)، (تحفة الأشراف: 10663)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العیدین 2 (5)، مسند احمد (1/24، 34، 40) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1990) صحيح مسلم (1137)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2418
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَلَى أَبِيهِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَرَّبَ إِلَيْهِمَا طَعَامًا، فَقَالَ:" كُلْ. فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ عَمْرٌو: كُلْ، فَهَذِهِ الْأَيَّامُ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِإِفْطَارِهَا وَيَنْهَانَا عَنْ صِيَامِهَا. قَالَ مَالِكٌ: وَهِيَ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ".
ام ہانی رضی اللہ عنہا کے غلام ابو مرہ سے روایت ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ہمراہ ان کے والد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے دونوں کے لیے کھانا پیش کیا اور کہا کہ کھاؤ، تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تو روزے سے ہوں، اس پر عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: کھاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان دنوں میں روزہ توڑ دینے کا حکم فرماتے اور روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔ مالک کا بیان ہے کہ یہ ایام تشریق کی بات ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2418]
ابو مرہ مولیٰ ام ہانی سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے والد سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے تو انہوں نے دونوں کو کھانا پیش کیا اور کہا: کھاؤ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ تو عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: کھاؤ، ان دنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں افطار کا حکم دیا کرتے تھے اور روزوں سے منع فرماتے تھے۔ جناب مالک رحمہ اللہ نے کہا: اس سے مراد ایامِ تشریق ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10751)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 44(137)، مسند احمد (4/197)، سنن الدارمی/الصوم 48 (1808) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3377
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ، أَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُلَامَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ، وَأَمَّا اللِّبْسَتَانِ فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ أَوْ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع سے اور دو قسم کے پہناؤں سے روکا ہے، رہے دو بیع تو وہ ملامسہ ۱؎ اور منابذہ ۲؎ ہیں، اور رہے دونوں پہناوے تو ایک اشتمال صماء ۳؎ ہے اور دوسرا احتباء ہے، اور احتباء یہ ہے کہ ایک کپڑا اوڑھ کے گوٹ مار کر اس طرح سے بیٹھے کہ شرمگاہ کھلی رہے، یا شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 3377]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی خرید و فروخت اور دو طرح سے کپڑا اوڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ خرید و فروخت میں «الْمُلَامَسَةُ» ملامسہ اور «الْمُنَابَذَةُ» منابذہ اور کپڑا اوڑھنے میں ایک «اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» اشتمال الصماء ہے اور دوسرا یہ کہ انسان اپنے اوپر کپڑا اس طرح سے لپیٹ کر بیٹھے کہ شرمگاہ کو ننگا رکھے یا اس پر کچھ نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 3377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 10 (367)، البیوع 62 (2144)، 63 (2147)، اللباس 20 (5820)، 21 (5822)، الاستئذان 42 (6284)، سنن النسائی/البیوع 24 (4519)، سنن ابن ماجہ/التجارات 12 (2170)، (تحفة الأشراف: 4154، 4524)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البیوع 1 (1512)، مسند احمد (3/6، 59، 66، 68، 71، 95)، دی/ البیوع 28 (2604) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ملامسہ یہ ہے کہ آدمی کپڑا چھو کر کھولے اور اندر سے دیکھے بغیر خرید لے، اور بعضوں نے کہا کہ ملامسہ یہ ہے کہ بائع اور مشتری آپس میں یہ طے کر لیں کہ جب اس کا کپڑا وہ چھو لے تو بیع لازم ہو جائے گی۔
۲؎: منابذہ: یہ ہے کہ بائع اپنا کپڑا بلا سوچے سمجھے مشتری کی طرف پھینک دے اور مشتری اپنا کپڑا بائع کی طرف اور یہی پھینکنا لزوم بیع قرار پائے۔
۳؎: اشتمال صمّاء سے مراد ہے کہ بدن پر ایک ہی کپڑا سر سے پیر تک لپیٹ لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6284) صحيح مسلم (1512)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4080
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ مُفْضِيًا بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ وَيَلْبَسُ ثَوْبَهُ وَأَحَدُ جَانِبَيْهِ خَارِجٌ وَيُلْقِي ثَوْبَهُ عَلَى عَاتِقِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے ایک یہ کہ آدمی اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ آسمان کی طرف کھلی ہو اس پر کوئی کپڑا نہ ہو، دوسرے یہ کہ اپنا کپڑا سارے بدن پر اس طرح لپیٹ لے کہ ایک طرف کا حصہ کھلا ہو، اور کپڑا اٹھا کر کندھے پر ڈال لیا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 4080]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انداز سے کپڑا لپیٹنے سے منع فرمایا ہے: ایک یہ کہ آدمی کپڑا اس طرح لپیٹے کہ اس کی شرمگاہ آسمان کی جانب کھلی رہے۔ دوسرا یوں کہ کپڑا لپیٹے اور اس کا ایک کنارہ باہر نکال کر اپنے کندھے پر ڈال لے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 4080]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 12358)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/319، 380، 391) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه مسلم (1511، 1554)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4081
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّمَّاءِ، وَعَنِ الِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں صماء ۱؎ اور احتباء ۲؎ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 4081]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الصَّمَّاءُ» (صماء) کے طور پر کپڑا لپیٹنے سے منع کیا ہے (یعنی انسان پوری طرح سے اس میں لپٹ جائے اور ہاتھ پاؤں کچھ بھی باہر نہ ہو) اور ایک کپڑے کو اپنی کمر اور گھٹنوں پر لپیٹنے سے بھی منع کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 4081]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/اللباس 21 (299)، سنن الترمذی/الأدب 20 (2767)، سنن النسائی/الزینة 53 (5344)، (تحفة الأشراف: 2693)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/293، 297، 322، 331، 344، 349) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: صمّاء یہ ہے کہ کپڑا اس طرح جسم پر لپیٹے کہ دونوں ہاتھ اندر ہوں۔
۲؎: احتباء: یہ ہے کہ آدمی سرین اور پنڈلیاں کھڑی رکھے اور اوپر سے ایک کپڑا ڈال لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2099)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں