سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
110. باب في الجاسوس المستأمن
باب: جو کافر امن لے کر مسلمانوں میں جاسوسی کے لیے آیا ہو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2653
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ ابْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَجَلَسَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ ثُمَّ انْسَلَّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اطْلُبُوهُ فَاقْتُلُوهُ"، قَالَ: فَسَبَقْتُهُمْ إِلَيْهِ فَقَتَلْتُهُ وَأَخَذْتُ سَلَبَهُ فَنَفَّلَنِي إِيَّاهُ.
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشرکوں میں سے ایک جاسوس آیا، آپ سفر میں تھے، وہ آپ کے اصحاب کے پاس بیٹھا رہا، پھر چپکے سے فرار ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو تلاش کر کے قتل کر ڈالو“، سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سب سے پہلے میں اس کے پاس پہنچا اور جا کر اسے قتل کر دیا اور اس کا مال لے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بطور نفل (انعام) مجھے دیدیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2653]
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں مشرکین کا کوئی جاسوس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور صحابہ کے ساتھ بیٹھا رہا، پھر خاموشی سے کھسک گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ڈھونڈو اور قتل کر ڈالو۔“ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے دوسروں سے پہلے اسے جا لیا اور قتل کر دیا اور اس کا سامان لے آیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سامان مجھے ہی بطور نفل (انعام) عنایت فرما دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2653]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجھاد 173 (3051)، (تحفة الأشراف: 4514)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجھاد 13 (1754) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الجھاد 29 (2836)، مسند احمد (4/50)، سنن الدارمی/السیر 15 (2495) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3051)
حدیث نمبر: 2654
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ هَاشِمَ بْنَ الْقَاسِمِ، وَهِشَامًا حَدَّثَاهُمْ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ قَالَ: فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَتَضَحَّى وَعَامَّتُنَا مُشَاةٌ وَفِينَا ضَعَفَةٌ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ فَانْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقْوِ الْبَعِيرِ فَقَيَّدَ بِهِ جَمَلَهُ ثُمَّ جَاءَ يَتَغَدَّى مَعَ الْقَوْمِ فَلَمَّا رَأَى ضَعَفَتَهُمْ وَرِقَّةَ ظَهْرِهِمْ خَرَجَ يَعْدُو إِلَى جَمَلِهِ فَأَطْلَقَهُ ثُمَّ أَنَاخَهُ، فَقَعَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ يَرْكُضُهُ وَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ عَلَى نَاقَةٍ وَرْقَاءَ هِيَ أَمْثَلُ ظَهْرِ الْقَوْمِ قَالَ: فَخَرَجْتُ أَعْدُو فَأَدْرَكْتُهُ وَرَأْسُ النَّاقَةِ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ، وَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَأَنَخْتُهُ فَلَمَّا وَضَعَ رُكْبَتَهُ بِالْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي، فَأَضْرِبُ رَأْسَهُ فَنَدَرَ فَجِئْتُ بِرَاحِلَتِهِ وَمَا عَلَيْهَا أَقُودُهَا فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ مُقْبِلًا فَقَالَ:" مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟ فَقَالُوا: سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ فَقَالَ لَهُ: سَلَبُهُ أَجْمَعُ"، قَالَ هَارُونُ: هَذَا لَفْظُ هَاشِمٍ.
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوازن کا غزوہ کیا، وہ کہتے ہیں: ہم چاشت کے وقت کھانا کھا رہے تھے، اور اکثر لوگ ہم میں سے پیدل تھے، ہمارے ساتھ کچھ ناتواں اور ضعیف بھی تھے کہ اسی دوران ایک شخص سرخ اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اور اونٹ کی کمر سے ایک رسی نکال کر اس سے اپنے اونٹ کو باندھا، اور لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے لگا، جب اس نے ہمارے کمزوروں اور سواریوں کی کمی کو دیکھا تو اپنے اونٹ کی طرف دوڑتا ہوا نکلا، اس کی رسی کھولی پھر اسے بٹھایا اور اس پر بیٹھا اور اسے ایڑ لگاتے ہوئے تیزی کے ساتھ چل پڑا (جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ جاسوس ہے) تو قبیلہ اسلم کے ایک شخص نے اپنی خاکستری اونٹنی پر سوار ہو کر اس کا پیچھا کیا اور یہ لوگوں کی سواریوں میں سب سے بہتر تھی، پھر میں آگے بڑھا یہاں تک کہ میں نے اسے پا لیا اور حال یہ تھا کہ اونٹنی کا سر اونٹ کے پٹھے کے پاس اور میں اونٹنی کے پٹھے پر تھا، پھر میں تیزی سے آگے بڑھتا گیا یہاں تک کہ میں اونٹ کے پٹھے کے پاس پہنچ گیا، پھر آگے بڑھ کر میں نے اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور اسے بٹھایا، جب اونٹ نے اپنا گھٹنا زمین پر ٹیکا تو میں نے تلوار میان سے نکال کر اس کے سر پر ماری تو اس کا سر اڑ گیا، میں اس کا اونٹ مع ساز و سامان کے کھینچتے ہوئے لایا تو لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر میرا استقبال کیا اور پوچھا: ”اس شخص کو کس نے مارا؟“ لوگوں نے بتایا: سلمہ بن اکوع نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا سارا سامان انہی کو ملے گا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2654]
سیدنا ایاس بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھ سے میرے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا، کہا کہ: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبیلہ ہوازن پر جہاد کیا۔ اتفاق سے ہم چاشت کے وقت کھانا کھا رہے تھے اور ہم میں اکثر مجاہدین پیدل تھے اور کچھ لوگ کمزور بھی تھے، اتنے میں ایک شخص آیا جو سرخ اونٹ پر سوار تھا، اس نے اونٹ کی کمر سے رسی نکالی، اس سے اس کو باندھا اور آ کر لوگوں کے ساتھ کھانے میں شریک ہو گیا۔ جب اس نے دیکھا کہ مجاہدین میں کمزور لوگ ہیں اور ان میں سواریوں کی بھی کمی ہے تو وہاں سے نکلا، بھاگتا ہوا اپنے اونٹ کے پاس پہنچا اور اسے کھولا، اس کو بٹھایا، خود اس پر بیٹھا اور پھر اسے دوڑاتے ہوئے چل دیا۔ (اس وقت ہم کو یقین ہو گیا کہ یہ جاسوس ہے) چنانچہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص اپنی خاکستری اونٹنی پر اس کے تعاقب میں گیا، اور یہ اونٹنی ہماری سب سواریوں سے عمدہ سواری تھی۔“ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں پیدل ہی بھاگتا ہوا اس کے پیچھے گیا اور اسے جا لیا جبکہ اونٹنی کا سر اونٹ کی ران کے پاس تھا اور میں اونٹنی کی پچھلی ٹانگوں کے ساتھ تھا۔ پھر میں آگے بڑھا حتیٰ کہ اونٹ کی پچھلی ٹانگوں کے پاس پہنچ گیا۔ میں اور آگے بڑھا حتیٰ کہ اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور پھر اس کو بٹھا لیا۔ جب اس نے اپنا گھٹنا زمین پر رکھا تو میں نے اپنی تلوار نکالی اور اس سوار کے سر پر دے ماری تو وہ کٹ کر دور جا گرا، چنانچہ میں اس کا اونٹ اور جو اس پر تھا سب ہانک کر لے آیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے آگے بڑھ کر میرا استقبال کیا اور پوچھا: ”اس آدمی کو کس نے قتل کیا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا سارا اسباب اسی کا ہے۔““ (امام ابوداؤد رحمہ اللہ کے شیخ) ہارون نے کہا: ”اس روایت کے الفاظ ہاشم بن قاسم کے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2654]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الجہاد 13 (1754)، (تحفة الأشراف: 4517)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/49، 51) (حسن)» (مؤلف کی اس سند سے حسن ہے، نیز یہ واقعہ صحیحین میں بھی ہے، جیسا کہ تخریج سے واضح ہے)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امن حاصل کرنے والے کافر کے متعلق اگر یہ معلوم ہو جائے کہ یہ جاسوس ہے تو اسے قتل کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1754)