سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
167. باب في أمان المرأة
باب: مسلمان عورت کافر کو امان دیدے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2764
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَتُجِيرُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ فَيَجُوزُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اگر کوئی عورت کسی کافر کو مسلمانوں سے پناہ دے دیا کرتی تو وہ پناہ درست ہوتی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2764]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”(دور رسالت میں) عورت کسی کو مومنوں سے پناہ دے دیتی تو وہ جائز اور قبول ہوا کرتی تھی (مسلمان اسے قتل نہ کر سکتے تھے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2764]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15998) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي في الكبريٰ (8683)
إبراهيم النخعي عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 100
إسناده ضعيف
نسائي في الكبريٰ (8683)
إبراهيم النخعي عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 100
حدیث نمبر: 2763
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهَا أَجَارَتْ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے دن ایک مشرک کو امان دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے اس کو پناہ دی جس کو تم نے پناہ دی، اور ہم نے اس کو امان دیا جس کو تم نے امان دیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2763]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے فتح مکہ کے روز ایک مشرک کو پناہ دی تھی۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور یہ واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ہم نے پناہ دی اسے جس کو تو نے پناہ دی، ہم نے امان دی اسے جس کو تو نے امان دی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18005)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 4 (357)، والجزیة 9 (3171)، والأدب 94 (6158)، صحیح مسلم/المسافرین 16 (336)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 8 (28)، مسند احمد (6/343، 423)، دي الصلاة 151 (1494) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله وأمنا
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
تقدم بعضه (1290) وأخرجه النسائي في الكبريٰ (8685)
تقدم بعضه (1290) وأخرجه النسائي في الكبريٰ (8685)