🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب ما جاء في الوصية للوارث
باب: وارث کے لیے وصیت کرنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2870
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: کہ اللہ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے ۱؎ لہٰذا اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2870]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الوصایا 5 (2120)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 6 (2713)، (تحفة الأشراف:4882)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/267)، ویأتي ہذا الحدیث برقم: 3565 (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: آیت میراث نازل فرما کر اس کا حصہ مقرر کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3073)
أخرجه الترمذي (2120 وسنده حسن، إسماعيل بن عياش صرح بالسماع عنده) ورواه ابن ماجه (2713 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3565
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ، وَلَا تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الطَّعَامَ، قَالَ: ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا، ثُمَّ قَالَ: الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ، وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے تو اب وارث کے واسطے وصیت نہیں ہے، اور عورت اپنے گھر میں شوہر کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی نہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ہم مردوں کا بہترین مال ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عاریۃً دی ہوئی چیز کی واپسی ہو گی (اگر چیز موجود ہے تو چیز، ورنہ اس کی قیمت دی جائے گی) دودھ استعمال کرنے کے لیے دیا جانے والا جانور (دودھ ختم ہو جانے کے بعد) واپس کر دیا جائے گا، قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور کفیل ضامن ہے (یعنی جس قرض کا ذمہ لیا ہے اس کا ادا کرنا اس کے لیے ضروری ہو گا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 3565]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الزکاة 34 (1265)، الوصایا 5 (2120)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 6 (2713)، (تحفة الأشراف: 4882)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/267) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2956)
أخرجه ابن ماجه (2398 وسنده حسن) والترمذي (1265 وسنده حسن، 670) إسماعيل بن عياش صرح بالسماع عند أحمد (5/267)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں