سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب في صفايا رسول الله صلى الله عليه وسلم من الأموال
باب: مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 2965
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، الْمَعْنَى أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ، كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصًا يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ: يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ قُوتَ سَنَةٍ فَمَا بَقِيَ جَعَلَ فِي الْكُرَاعِ وَعُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ: فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ.
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں بنو نضیر کا مال اس قسم کا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو عطا کیا تھا اور مسلمانوں نے اس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے (یعنی جنگ لڑ کر حاصل نہیں کیا تھا) اس مال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے تھے۔ ابن عبدہ کہتے ہیں: کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنے گھر والوں کا ایک سال کا خرچہ لے لیا کرتے تھے اور جو بچ رہتا تھا اسے گھوڑے اور جہاد کی تیاری میں صرف کرتے تھے، ابن عبدہ کی روایت میں: «في الكراع والسلاح» کے الفاظ ہیں، (یعنی مجاہدین کے لیے گھوڑے اور ہتھیار کی فراہمی میں خرچ کرتے تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2965]
سیدنا مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ”تھے اور نہ اونٹ۔ اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے لیے مخصوص تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل بیت پر خرچ کرتے تھے۔“ (امام ابوداؤد رحمہ اللہ کے شیخ) احمد بن عبدہ نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل کا ایک سال کا خرچ لے لیتے اور جو باقی بچتا اس کو گھوڑوں اور جہاد فی سبیل اللہ کے سامان میں لگا دیتے۔“ ابن عبدہ کے الفاظ تھے: «فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ» ”(معنی وہی ہیں جو اوپر بیان ہوئے ہیں)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2965]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (2963)، (تحفة الأشراف: 10631) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2904) صحيح مسلم (1757)
حدیث نمبر: 2966
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلا رِكَابٍ سورة الحشر آية 6، قَالَ الزُّهْرِيُّ، قَالَ عُمَرُ: هَذِهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً قُرَى عُرَيْنَةَ فَدَكَ وَكَذَا وَكَذَا مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ سورة الحشر آية 7، وَلَلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ فَاسْتَوْعَبَتْ هَذِهِ الْآيَةُ النَّاسَ، فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا لَهُ فِيهَا حَقٌّ، قَالَ أَيُّوبُ، أَوْ قَالَ حَظٌّ: إِلَّا بَعْضَ مَنْ تَمْلِكُونَ مِنْ أَرِقَّائِكُمْ.
ابن شہاب زہری کہتے ہیں (عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا اللہ نے فرمایا: «وما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» ”جو مال اللہ نے اپنے رسول کو عنایت فرمایا، اور تم نے اس پر اپنے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے“ (سورۃ الحشر: ۶) زہری کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس آیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عرینہ کے چند گاؤں جیسے فدک وغیرہ خاص ہوئے، اور دوسری آیتیں «ما أفاء الله على رسوله من أهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل» ”گاؤں والوں کا جو (مال) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وہ اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں، مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے“ (سورۃ الحشر: ۷)، اور «للفقراء الذين أخرجوا من ديارهم وأموالهم» ”(فئی کا مال) ان مہاجر مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دئیے گئے ہیں“ (سورۃ الحشر: ۸) «والذين تبوءوا الدار والإيمان من قبلهم» ”اور (ان کے لیے) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنا لی ہے“ (سورۃ الحشر: ۹) «والذين جاءوا من بعدهم» ”اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئیں“ (سورۃ الحشر: ۱۰) تو اس آیت نے تمام لوگوں کو سمیٹ لیا کوئی ایسا مسلمان باقی نہیں رہا جس کا مال فیٔ میں حق نہ ہو۔ ایوب کہتے ہیں: یا «فيها حق» کے بجائے،، «فيها حظ» کہا، سوائے بعض ان چیزوں کے جن کے تم مالک ہو (یعنی اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2966]
جناب زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سورۃ الحشر کی آیت ﴿اور ان (لوگوں) کا جو مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی طرف پھیر دیا ہے، اس کے لیے تم نے کوئی گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے۔﴾ [سورة الحشر: 6] کے بارے میں فرماتے ہیں: ”یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے، اس میں عرینہ کی بستیاں، فدک وغیرہ وغیرہ ہیں۔“ (اس کے بعد ساتویں آیت میں ہے) ﴿لڑے بھڑے بغیر بستیوں والوں کا جو مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے تصرف میں دیا ہے وہ اللہ، رسول، قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے۔﴾ [سورة الحشر: 7] (اور آگے آٹھویں آیت میں ہے کہ یہ مال فے) ﴿ان فقراء مہاجرین کا حق ہے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکال باہر کیے گئے۔﴾ [سورة الحشر: 8] (اور اس کے بعد یہ بیان ہوا ہے کہ اس مال فے میں ان لوگوں کا بھی حق ہے) ﴿جنہوں نے ان (مہاجرین کی آمد) سے پہلے (مدینہ میں) ٹھکانہ بنا لیا تھا اور ایمان قبول کر لیا تھا۔﴾ [سورة الحشر: 9] (انصار مدینہ) اور (پھر دسویں آیت میں ہے) ﴿اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے۔﴾ [سورة الحشر: 10] ”یہ (آخری) آیت تمام لوگوں سے متعلق ہے اور مسلمانوں میں سے کوئی بھی نہیں بچتا، مگر اس کا اس فے میں حصہ ہے۔“ ایوب نے لفظ «حَقّ» کی بجائے «حَظّ» کہا: ”سوائے تمہارے کچھ ایسے لوگوں کے جن کی گردنوں کے تم مالک ہو۔“ (غلام جو آزاد نہیں ہوئے اور ان کی پوری ذمہ داری ان کے آقاؤں پر ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2966]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10638) (صحیح)» (پچھلی اور اگلی روایات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں زہری اور عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال المنذري : ’’ ھٰذا منقطع،الزهري لم يسمع من عمر ‘‘ (عون المعبود 103/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 107
إسناده ضعيف
قال المنذري : ’’ ھٰذا منقطع،الزهري لم يسمع من عمر ‘‘ (عون المعبود 103/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 107