سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب في خبر النضير
باب: بنو نضیر سے جنگ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3005
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ: يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّنَهُمْ وَأَسْلَمُوا وَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ بَنِي قَيْنُقَاعَ وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ وَكُلَّ يَهُودِيٍّ كَانَ بِالْمَدِينَةِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی آپ نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا، اور بنو قریظہ کو رہنے دیا اور ان پر احسان فرمایا (اس لیے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کر لیا تھا) یہاں تک کہ قریظہ اس کے بعد لڑے ۱؎ تو ان کے مرد مارے گئے، ان کی عورتیں، ان کی اولاد، اور ان کے مال مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے گئے، ان میں کچھ ہی لوگ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر ملے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امان دی، وہ مسلمان ہو گئے، باقی مدینہ کے سارے یہودیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے نکال بھگایا، بنو قینقاع کے یہودیوں کو بھی جو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی قوم سے تھے اور بنو حارثہ کے یہودیوں کو بھی اور جو کوئی بھی یہودی تھا سب کو مدینہ سے نکال باہر کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3005]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازشیں کیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو مدینہ سے نکال باہر کیا اور بنو قریظہ کو ان کے گھروں میں رہنے دیا اور ان پر احسان فرمایا۔ حتیٰ کہ بنو قریظہ نے بعد میں جنگ کی (غزوہ احزاب کے موقع پر کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور دھوکہ دیا) تو ان کے جنگجو مرد قتل کر دیے گئے اور ان کی عورتوں، بچوں اور اموال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا گیا، سوائے ان بعض لوگوں کے جو (کارروائی سے پہلے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امان دی اور وہ اسلام لے آئے (اور قتل سے بچ گئے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قینقاع اور بنو حارثہ کے سب یہودیوں کو جو مدینہ میں رہ رہے تھے باہر نکال دیا۔ بنو قینقاع سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی قوم تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3005]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 14 (4028)، صحیح مسلم/الجھاد 20 (1766)، (تحفة الأشراف: 8455)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/149) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جنگ خندق کے موقع پر انہوں نے بد عہدی کی اور در پردہ قریش کی اعانت کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4028) صحيح مسلم (1766)
حدیث نمبر: 3004
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ كَتَبُوا إِلَى ابْنِ أُبَيٍّ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مَعَهُ الأَوْثَانَ مِن الأَوْسِ وَ الْخَزْرَجِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِالْمَدِينَةِ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ إِنَّكُمْ آوَيْتُمْ صَاحِبَنَا وَإِنَّا نُقْسِمُ بِاللَّهِ لَتُقَاتِلُنَّهُ أَوْ لَتُخْرِجُنَّهُ أَوْ لَنَسِيرَنَّ إِلَيْكُمْ بِأَجْمَعِنَا حَتَّى نَقْتُلَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَنَسْتَبِيحَ نِسَاءَكُمْ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ مِنْ عَبَدَةِ الأَوْثَانِ اجْتَمَعُوا لِقِتَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُمْ فَقَالَ:" لَقَدْ بَلَغَ وَعِيدُ قُرَيْشٍ مِنْكُمُ الْمَبَالِغَ مَا كَانَتْ تَكِيدُكُمْ بِأَكْثَرَ مِمَّا تُرِيدُونَ أَنْ تَكِيدُوا بِهِ أَنْفُسَكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا أَبْنَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ، فَلَمَّا سَمِعُوا ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَفَرَّقُوا، فَبَلَغَ ذَلِكَ كُفَّارَ قُرَيْشٍ فَكَتَبَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ إِلَى الْيَهُودِ إِنَّكُمْ أَهْلُ الْحَلْقَةِ وَالْحُصُونِ وَإِنَّكُمْ لَتُقَاتِلُنَّ صَاحِبَنَا أَوْ لَنَفْعَلَنَّ كَذَا وَكَذَا وَلَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَدَمِ نِسَائِكُمْ شَيْءٌ وَهِيَ الْخَلَاخِيلُ، فَلَمَّا بَلَغَ كِتَابُهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْمَعَتْ بَنُو النَّضِيرِ بِالْغَدْرِ فَأَرْسَلُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْرُجْ إِلَيْنَا فِي ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِكَ وَلْيَخْرُجْ مِنَّا ثَلَاثُونَ حَبْرًا حَتَّى نَلْتَقِيَ بِمَكَانِ الْمَنْصَفِ فَيَسْمَعُوا مِنْكَ فَإِنْ صَدَّقُوكَ وَآمَنُوا بِكَ آمَنَّا بِكَ فَقَصَّ خَبَرَهُمْ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ غَدَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْكَتَائِبِ فَحَصَرَهُمْ فَقَالَ: لَهُمْ إِنَّكُمْ وَاللَّهِ لَا تَأْمَنُونَ عِنْدِي إِلَّا بِعَهْدٍ تُعَاهِدُونِي عَلَيْهِ"، فَأَبَوْا أَنْ يُعْطُوهُ عَهْدًا فَقَاتَلَهُمْ يَوْمَهُمْ ذَلِكَ، ثُمَّ غَدَا الْغَدُ عَلَى بَنِي قُرَيْظَةَ بِالْكَتَائِبِ وَتَرَكَ بَنِي النَّضِيرِ وَدَعَاهُمْ إِلَى أَنْ يُعَاهِدُوهُ فَعَاهَدُوهُ فَانْصَرَفَ عَنْهُمْ وَغَدَا عَلَى بَنِي النَّضِيرِ بِالْكَتَائِبِ فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى نَزَلُوا عَلَى الْجَلَاءِ فَجَلَتْ بَنُو النَّضِيرِ وَاحْتَمَلُوا مَا أَقَلَّتِ الإِبِلُ مِنْ أَمْتِعَتِهِمْ وَأَبْوَابِ بُيُوتِهِمْ وَخَشَبِهَا، فَكَانَ نَخْلُ بَنِي النَّضِيرِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهَا وَخَصَّهُ بِهَا فَقَالَ: وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلا رِكَابٍ سورة الحشر آية 6، يَقُولُ: بِغَيْرِ قِتَالٍ، فَأَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَهَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ وَقَسَمَ مِنْهَا لِرَجُلَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ، وَكَانَا ذَوِي حَاجَةٍ لَمْ يَقْسِمْ لِأَحَدٍ مِنَ الأَنْصَارِ غَيْرِهِمَا، وَبَقِيَ مِنْهَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي أَيْدِي بَنِي فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کفار قریش نے اس وقت جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آ گئے تھے اور جنگ بدر پیش نہ آئی تھی عبداللہ بن ابی اور اس کے اوس و خزرج کے بت پرست ساتھیوں کو لکھا کہ تم نے ہمارے ساتھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اپنے یہاں پناہ دی ہے، ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تم اس سے لڑ بھڑ (کر اسے قتل کر دو) یا اسے وہاں سے نکال دو، نہیں تو ہم سب مل کر تمہارے اوپر حملہ کر دیں گے، تمہارے لڑنے کے قابل لوگوں کو قتل کر دیں گے اور تمہاری عورتوں کو اپنے لیے مباح کر لیں گے۔ جب یہ خط عبداللہ بن ابی اور اس کے بت پرست ساتھیوں کو پہنچا تو وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے جمع ہوئے، جب یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ جا کر ان سے ملے اور انہیں سمجھایا کہ قریش کی دھمکی اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی دھمکی ہے، قریش تمہیں اتنا ضرر نہیں پہنچا سکتے جتنا تم خود اپنے تئیں ضرر پہنچا سکتے ہو، کیونکہ تم اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں سے لڑنا چاہتے ہو، جب ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا تو وہ آپس میں ایک رائے نہیں رہے، بٹ گئے، (جنگ کا ارادہ سب کا نہیں رہا) تو یہ بات کفار قریش کو پہنچی تو انہوں نے واقعہ بدر کے بعد پھر اہل یہود کو خط لکھا کہ تم لوگ ہتھیار اور قلعہ والے ہو تم ہمارے ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) سے لڑو نہیں تو ہم تمہاری ایسی تیسی کر دیں گے (یعنی قتل کریں گے) اور ہمارے درمیان اور تمہاری عورتوں کی پنڈلیوں و پازیبوں کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو گی، جب ان کا خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ لگا، تو بنو نضیر نے فریب دہی و عہدشکنی کا پلان بنا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا کہ آپ اپنے اصحاب میں سے تیس آدمی لے کر ہماری طرف نکلئے، اور ہمارے بھی تیس عالم نکل کر آپ سے ایک درمیانی مقام میں رہیں گے، وہ آپ کی گفتگو سنیں گے اگر آپ کی تصدیق کریں گے اور آپ پر ایمان لائیں گے تو ہم سب آپ پر ایمان لے آئیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے ان کی یہ سب باتیں بیان کر دیں، دوسرے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا لشکر لے کر ان کی طرف گئے اور ان کا محاصرہ کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”اللہ کی قسم ہمیں تم پر اس وقت تک اطمینان نہ ہو گا جب تک کہ تم ہم سے معاہدہ نہ کر لو گے“، تو انہوں نے عہد دینے سے انکار کیا (کیونکہ ان کا ارادہ دھوکہ دینے کا تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس دن جنگ کی، پھر دوسرے دن آپ نے اپنے لشکر کو لے کر قریظہ کے یہودیوں پر چڑھائی کر دی اور بنو نضیر کو چھوڑ دیا اور ان سے کہا: ”تم ہم سے معاہدہ کر لو“، انہوں نے معاہدہ کر لیا کہ (ہم آپ سے نہ لڑیں گے اور نہ آپ کے دشمن کی مدد کریں گے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ سے معاہدہ کر کے واپس آ گئے، دوسرے دن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوجی دستے لے کر بنو نضیر کی طرف بڑھے اور ان سے جنگ کی یہاں تک کہ وہ جلا وطن ہو جانے پر راضی ہو گئے تو وہ جلا وطن کر دئیے گئے، اور ان کے اونٹ ان کا جتنا مال و اسباب گھروں کے دروازے اور کاٹ کباڑ لاد کر لے جا سکے وہ سب لاد کر لے گئے، ان کے کھجوروں کے باغ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہو گئے، اللہ نے انہیں آپ کو عطا کر دیا، اور آپ کے لیے خاص کر دیا، اور ارشاد فرمایا: «وما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» ”اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو کافروں کے مال میں سے جو کچھ عطا کیا ہے وہ تمہارے اونٹ اور گھوڑے دوڑانے یعنی جنگ کرنے کے نتیجہ میں نہیں دیا ہے“ (سورۃ الحشر: ۶)۔ راوی کہتے ہیں: «فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» کے معنی ہیں جو آپ کو بغیر لڑائی کے حاصل ہوا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا زیادہ تر حصہ مہاجرین کو دیا اور انہیں کے درمیان تقسیم فرمایا اور اس میں سے آپ نے دو ضرورت مند انصاریوں کو بھی دیا، ان دو کے علاوہ کسی دوسرے انصاری کو نہیں دیا، اور جس قدر باقی رہا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ تھا جو فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کے ہاتھ میں رہا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3004]
سیدنا عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ قریشِ مکہ نے عبداللہ بن ابی (منافق) اور اس کے ہم نوا اوس و خزرج کے دوسرے بت پرست لوگوں کو خط لکھا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لا چکے تھے اور یہ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ”تم لوگوں نے ہمارے آدمی کو پناہ دے رکھی ہے اور ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تم لوگ اس سے جنگ کرو یا اسے (اپنے ہاں سے) نکال باہر کرو، ورنہ ہم سب مل کر تم پر دھاوا بولیں گے یہاں تک کہ تمہارے جوانوں کو قتل کر دیں گے اور تمہاری عورتوں کو اپنے قبضے میں لے آئیں گے۔“ یہ خط جب عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی بت پرستوں کو پہنچا تو وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کے لیے اکٹھے ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ملاقات کی اور فرمایا: ”قریش کی دھمکی سے تم لوگ بہت زیادہ متاثر ہو گئے ہو اور وہ تمہارا اس سے زیادہ نقصان نہیں کر سکتے جتنا کہ تم اپنے ہاتھوں خود کر بیٹھنا چاہتے ہو۔ کیا تم اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں سے قتال کرنا چاہتے ہو؟“ جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی (اور اس کی حقیقت کو سمجھ گئے) تو وہ تتر بتر ہو گئے۔ کفارِ قریش کو یہ خبر ملی تو انہوں نے واقعہ بدر کے بعد یہودیوں کو لکھا کہ ”تم لوگ اسلحہ اور قلعوں کے مالک ہو۔ تم لوگ یا تو لازماً ہمارے آدمی سے جنگ کرو ورنہ ہم ایسے اور ایسے کریں گے اور پھر ہمارے اور تمہاری عورتوں کی پازیبوں کے درمیان کوئی حائل نہ ہو سکے گا (یعنی مردوں کو قتل کر دیں گے اور عورتوں کو لونڈیاں بنا لیں گے)۔“ جب ان کے لکھے کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئی تو اس اثنا میں بنو نضیر نے بھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) دھوکہ کرنے کا قصد کیا۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا کہ ”آپ اپنے تیس اصحاب کے ساتھ ہماری طرف آئیں اور ہم میں سے تیس عالم آئیں اور ایک درمیانی جگہ میں ملیں۔ یہ لوگ آپ کی بات سنیں، اگر انہوں نے آپ کی تصدیق کی اور آپ پر ایمان لے آئے تو ہم بھی آپ پر ایمان لے آئیں گے۔“ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (لوگوں کو) ان کی خبر بتا دی۔ جب اگلا دن ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر لے کر گئے اور ان کا گھیراؤ کر لیا اور ان سے کہا: ”اللہ کی قسم! تم لوگوں پر مجھے کوئی اعتماد نہیں الا یہ کہ ایک (نئے) عہد کے ذریعے سے جو تم (نئے سرے سے) میرے ساتھ کرو۔“ ان لوگوں نے عہد و پیمان دینے سے انکار کر دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن ان سے قتال کیا۔ پھر اگلے دن لشکر لے کر ان بنو قریظہ پر چڑھائی کی اور بنو نضیر کو چھوڑ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (بنو قریظہ) سے مطالبہ کیا کہ وہ (نئے سرے سے) عہد و پیمان کریں، انہوں نے معاہدہ کر لیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے توجہ ہٹائی۔ اور (اگلے دن دوبارہ) بنو نضیر پر لشکر لے کر چڑھائی کی اور ان سے قتال کیا حتیٰ کہ وہ جلا وطنی پر راضی ہو گئے۔ چنانچہ بنو نضیر جلا وطن ہو گئے، اور جو وہ اٹھا سکتے تھے گھر کا اسباب، گھروں کے دروازے، شہتیر اور کڑیاں وغیرہ اونٹوں پر لاد لیں۔ چنانچہ بنو نضیر کی کھجوریں بطور خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحویل میں آ گئیں۔ اللہ نے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرمائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص کر دیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ﴾ [سورة الحشر: 6] ”اور اللہ نے ان میں سے جو کچھ اپنے رسول کو دلوایا ہے تم نے اس پر کوئی گھوڑے یا اونٹ نہیں دوڑائے (بغیر قتال کے حاصل ہوا ہے)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اکثر حصہ مہاجرین میں تقسیم فرما دیا اور انصاریوں میں سے صرف دو آدمیوں کو دیا جو حاجت مند تھے، ان کے علاوہ کسی انصاری کو کچھ نہیں دیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ میں سے یہی باقی ہے جو بنو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے قبضے میں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3004]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15622) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزهري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 109
إسناده ضعيف
الزهري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 109