سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب في إقطاع الأرضين
باب: زمین جاگیر میں دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3065
حدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيُّ: مَا لَمْ تَنَلْهُ أَخْفَافُ الإِبِلِ يَعْنِي أَنَّ الإِبِلَ تَأْكُلُ مُنْتَهَى رُءُوسِهَا وَيُحْمَى مَا فَوْقَهُ.
ہارون بن عبداللہ کہتے ہیں کہ محمد بن حسن مخزومی نے کہا: «ما لم تنله أخفاف الإبل» کا مطلب یہ ہے کہ اونٹ کا سر جہاں تک پہنچے گا وہاں تک وہ کھائے ہی کھائے گا اس سے اوپر کا حصہ بچایا جا سکتا ہے (اس لیے ایسی جگہ گھیرو جہاں اونٹ جاتے ہی نہ ہوں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3065]
جناب محمد بن حسن مخزومی رحمہ اللہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «مَا لَمْ تَنَلْهُ أَخْفَافُ الْإِبِلِ» ”وہ جنہیں اونٹوں کے پاؤں نہ پہنچتے ہوں۔“ سے مراد یہ ہے کہ عام چرتے ہوئے اونٹ ان درختوں سے، جہاں تک کہ ان کے منہ پہنچتے ہیں، کھاتے ہیں، تو تم انہیں روک نہیں سکتے ہو، البتہ ان سے اوپر کو تم اپنی ملکیت میں لے سکتے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3065]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (ضعیف جداً)» (محمد بن حسن مخزومی کذّاب راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
سنده صحيح إلٰي محمد بن الحسن المخزومي وھو متھم بالكذب بنفسه
سنده صحيح إلٰي محمد بن الحسن المخزومي وھو متھم بالكذب بنفسه
حدیث نمبر: 3064
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، الْمَعْنَى وَاحِد أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيَّ حَدَّثَهُمْ، أَخْبَرَنِي أَبِي،عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ، عَنْ سُمَيِّ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ شُمَيْرٍ، قَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ ابْنِ عَبْدِ الْمَدَانِ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْطَعَهُ الْمِلْحَ، قَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ: الَّذِي بِمَأْرِبَ فَقَطَعَهُ لَهُ فَلَمَّا أَنْ وَلَّى، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمَجْلِسِ: أَتَدْرِي مَا قَطَعْتَ لَهُ إِنَّمَا قَطَعْتَ لَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ، قَالَ: فَانْتَزَعَ مِنْهُ، قَالَ وَسَأَلَهُ عَمَّا يُحْمَى مِنَ الأَرَاكِ، قَالَ: مَا لَمْ تَنَلْهُ خِفَافٌ وَقَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ: أَخْفَافُ الإِبِلِ.
ابیض بن حمال ماربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے نمک کی کان کی جاگیر مانگی (ابن متوکل کی روایت میں ہے: جو مآرب ۱؎ میں تھی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دے دی، لیکن جب وہ واپس مڑے تو مجلس میں موجود ایک شخص نے عرض کیا: جانتے ہیں کہ آپ نے ان کو کیا دے دیا ہے؟ آپ نے ان کو ایسا پانی دے دیا ہے جو ختم نہیں ہوتا، بلا محنت و مشقت کے حاصل ہوتا ہے ۲؎ وہ کہتے ہیں: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس لے لیا، تب انہوں نے آپ سے پوچھا: پیلو کے درختوں کی کون سی جگہ گھیری جائے؟ ۳؎، آپ نے فرمایا: ”جہاں جانوروں کے پاؤں نہ پہنچ سکیں“ ۴؎۔ ابن متوکل کہتے ہیں: خفاف سے مراد «أخفاف الإبل» (یعنی اونٹوں کے پیر) ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3064]
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں ایک وفد لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمک کی کان بطور جاگیر طلب کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دے دی۔ ابن متوکل کہتے ہیں: ”وہ کان مقام مارب پر تھی۔“ جب میں نے پشت پھیری تو مجلس میں سے ایک آدمی نے کہا: ”کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے اسے کیا دے دیا ہے؟ آپ نے اسے نہ ختم ہونے والا دائمی پانی دے دیا ہے۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس لے لیا۔ پھر میں نے سوال کیا کہ ”پیلو کے کون سے درخت گھیرے جائیں؟ (اپنے قبضے میں لیے جا سکتے ہیں)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنہیں اونٹوں کے پاؤں نہ پہنچتے ہوں۔“ (آبادی سے کافی دور ہوں) [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3064]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأحکام 39 (1380)، سنن ابن ماجہ/الرھون 17 (2475)، (تحفة الأشراف: 1)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع 66 (2650) (حسن لغیرہ)» (یہ سند مسلسل بالضعفاء ہے: ثمامہ لیّن، سمی مجہول اور شمیر لین ہیں، لیکن آنے والی حدیث (3066) سے تقویت پا کر یہ حسن ہوئی، اس کی تصحیح ابن حبان نے کی ہے، البانی نے دوسرے طریق کی وجہ سے اس کی تحسین کی ہے، «ما لَمْ تَنَلْهُ خِفَافٌ» کے استثناء کے ساتھ، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 8؍ 388)
وضاحت: ۱؎: یمن کے ایک گاؤں کا نام ہے۔
۲؎: یعنی یہ چیز تو سب کے استعمال و استفادہ کی ہے اسے کسی خاص شخص کی جاگیر میں دے دینا مناسب نہیں۔
۳؎: کہ جس میں اور لوگ نہ آ سکیں اور اپنے جانور وہاں نہ چرا سکیں۔
۴؎: یعنی جو آبادی اور چراگاہ سے دور ہو۔
۲؎: یعنی یہ چیز تو سب کے استعمال و استفادہ کی ہے اسے کسی خاص شخص کی جاگیر میں دے دینا مناسب نہیں۔
۳؎: کہ جس میں اور لوگ نہ آ سکیں اور اپنے جانور وہاں نہ چرا سکیں۔
۴؎: یعنی جو آبادی اور چراگاہ سے دور ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن