سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب في الشهيد يغسل
باب: شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟
حدیث نمبر: 3134
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلَى أُحُدٍ، أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمُ الْحَدِيدُ، وَالْجُلُودُ، وَأَنْ يُدْفَنُوا بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے مقتولین (شہداء) کے بارے میں حکم دیا کہ ان کی زرہیں اور پوستینیں ان سے اتار لی جائیں، اور انہیں ان کے خون اور کپڑوں سمیت دفن کر دیا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3134]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کے متعلق فرمایا تھا: ”ان کے ہتھیار اور (چمڑے کی) پوستین اتار لیے جائیں اور انہیں ان کے خونوں اور کپڑوں ہی میں دفن کیا جائے۔“ یہ الفاظ زیاد بن ایوب کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3134]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجنائز 28 (1515)، (تحفة الأشراف: 5570)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/247) (ضعیف)» (اس کے راوی علی بن عاصم اور عطاء بن السائب اخیر میں مختلط ہو گئے تھے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1515)
عطاء بن السائب اختلط وعلي بن عاصم ضعيف (انظر ضعيف سنن الترمذي : 1073)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 115
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1515)
عطاء بن السائب اختلط وعلي بن عاصم ضعيف (انظر ضعيف سنن الترمذي : 1073)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 115
حدیث نمبر: 3135
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ. ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، وَهَذَا لَفْظُهُ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ: أَنَّ شُهَدَاءَ أُحُدٍ لَمْ يُغَسَّلُوا، وَدُفِنُوا بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِمْ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ شہدائے احد کو غسل نہیں دیا گیا وہ اپنے خون سمیت دفن کئے گئے اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3135]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”شہدائے احد کو غسل نہیں دیا گیا، انہیں ان کے خونوں کے ساتھ ہی دفن کر دیا گیا اور جنازہ بھی نہیں پڑھا گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3135]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1478) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3138
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ: أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ، وَيَقُولُ: أَيُّهُمَا أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟ فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا، قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ: أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا".
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ساتھ دفن کرتے تھے اور پوچھتے تھے کہ ان میں قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ تو جس کے بارے میں اشارہ کر دیا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قبر میں (لٹانے میں) آگے کرتے اور فرماتے: ”میں ان سب پر قیامت کے دن گواہ رہوں گا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خون سمیت دفنانے کا حکم دیا، اور انہیں غسل نہیں دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3138]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہدائے احد میں سے دو دو آدمیوں کو اکٹھا کرتے اور دریافت فرماتے: ”ان میں قرآن کسے زیادہ یاد ہے؟“ جب کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لحد میں آگے رکھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے روز ان کے لیے گواہ ہوں گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں ان کے خونوں ہی میں دفن کیا جائے اور انہیں غسل نہیں دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3138]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 72 (1343)، 73 (1345)، 75 (1347)، 78 (1353)، المغازي 26 (4079)، سنن الترمذی/الجنائز 46 (1036)، سنن النسائی/الجنائز 62 (1957)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 28 (1514)، (تحفة الأشراف: 2382) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1343)
حدیث نمبر: 3215
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَهُمْ، عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: جَاءَتِ الْأَنْصَارُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالُوا:" أَصَابَنَا قَرْحٌ، وَجَهْدٌ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا؟، قَالَ: احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَاجْعَلُوا الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ، قِيلَ: فَأَيُّهُمْ يُقَدَّمُ؟، قَالَ: أَكْثَرُهُمْ قُرْآنًا، قَالَ: أُصِيبَ أَبِي يَوْمَئِذٍ عَامِرٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ، أَوْ قَالَ: وَاحِدٌ".
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں غزوہ احد کے دن انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم زخمی اور تھکے ہوئے ہیں آپ ہمیں کیسی قبر کھودنے کا حکم دیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کشادہ قبر کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمی رکھو“، پوچھا گیا: آگے کسے رکھیں؟ فرمایا: ”جسے قرآن زیادہ یاد ہو“۔ ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے والد عامر رضی اللہ عنہ بھی اسی دن شہید ہوئے اور دو یا ایک آدمی کے ساتھ دفن ہوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3215]
سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ احد کے روز انصاری لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: ”ہم زخمی ہیں اور تھکے ہوئے بھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرماتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو اور کھلی کھلی بناؤ اور دو دو اور تین تین کو ایک ایک قبر میں دفنا دو۔“ کہا گیا کہ آگے کسے کیا جائے؟ فرمایا: ”جسے قرآن زیادہ یاد ہو۔“ ہشام کہتے ہیں کہ میرے والد عامر رضی اللہ عنہ بھی اسی دن شہید ہو گئے تھے اور وہ دو آدمیوں کے ساتھ دفن ہوئے تھے یا کہا کہ ایک آدمی کے ساتھ۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3215]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجھاد 33 (1713)، سنن النسائی/الجنائز 86 (2012)، 87 (2013)،90 (2017)، 91 (2020)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 41 (1560)، (تحفة الأشراف: 11731، 18676)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/19،20) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1703)
أخرجه الترمذي (1713 وسنده صحيح) ورواه ابن ماجه (1560 وسنده صحيح) حميد بن ھلال صرح بالسماع عند أحمد (1/20)
مشكوة المصابيح (1703)
أخرجه الترمذي (1713 وسنده صحيح) ورواه ابن ماجه (1560 وسنده صحيح) حميد بن ھلال صرح بالسماع عند أحمد (1/20)