سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب كيف غسل الميت
باب: میت کو کیسے غسل دیا جائے؟
حدیث نمبر: 3144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: وَضَفَّرْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ، ثُمَّ أَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا مُقَدَّمَ رَأْسِهَا، وَقَرْنَيْهَا.
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہم نے ان کے سر کے بالوں کی تین لٹیں گوندھ دیں اور انہیں سر کے پیچھے ڈال دیں، ایک لٹ آگے کے بالوں کی اور دو لٹیں ادھر ادھر کے بالوں کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3144]
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”ہم نے ان کے بالوں کی تین لٹیں بٹ دیں اور پھر ان لٹوں کو ان (محترمہ) کے پیچھے ڈال دیا، یعنی سر کے آگے کے بال اور دونوں اطراف والے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الجنائز 16 (1262)، وانظر حدیث رقم: (3142)، (تحفة الأشراف: 18138) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1263) صحيح مسلم (939)
حدیث نمبر: 3143
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَأَبُو كَامِلٍ، بِمَعْنَى الْإِسْنَادِ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ حَفْصَةَ أُخْتِهِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ.
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہم نے ان کے سر کے بالوں کی تین لٹیں کر دیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3143]
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”ہم نے (دختر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین میں) ان کے بالوں کی تین لٹیں بنائی تھیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3143]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الجنائز 12 (939)، سنن النسائی/ الجنائز 35 (1892)، (تحفة الأشراف: 18133)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/407) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (939)