🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب في كفن المرأة
باب: عورت کے کفن کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3157
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي وَكَانَ قَارِئًا لِلْقُرْآنِ، نُوحُ بْنُ حَكِيمٍ الثَّقَفِيُّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ يُقَالُ لَهُ دَاوُدُ قَدْ وَلَّدَتْهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْ لَيْلَى بِنْتَ قَانِفٍ الثَّقَفِيَّةَ، قَالَتْ: كُنْتُ فِيمَنْ غَسَّلَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ وَفَاتِهَا، فَكَانَ أَوَّلُ مَا أَعْطَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحِقَاءَ، ثُمَّ الدِّرْعَ، ثُمَّ الْخِمَارَ، ثُمَّ الْمِلْحَفَةَ، ثُمَّ أُدْرِجَتْ بَعْدُ فِي الثَّوْبِ الْآخِرِ، قَالَتْ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عِنْدَ الْبَابِ، مَعَهُ كَفَنُهَا، يُنَاوِلُنَاهَا ثَوْبًا ثَوْبًا.
بنی عروہ بن مسعود کے ایک فرد سے روایت ہے (جنہیں داود کہا جاتا تھا، اور جن کی پرورش ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے کی تھی) کہ لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں ان عورتوں میں شامل تھی جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ان کے انتقال پر غسل دیا تھا، کفن کے کپڑوں میں سے سب سے پہلے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازار دیا، پھر کرتہ دیا، پھر اوڑھنی دی، پھر چادر دی، پھر ایک اور کپڑا دیا، جسے اوپر لپیٹ دیا گیا ۱؎۔ لیلیٰ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کفن کے کپڑے لیے ہوئے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ہمیں ان میں سے ایک ایک کپڑا دے رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3157]
سیدہ لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں ان عورتوں میں شامل تھی جنہوں نے سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا دختر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی وفات کے وقت غسل دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (ان کے کفن کے لیے) سب سے پہلے اپنا تہبند عنایت فرمایا، پھر قمیص، پھر اوڑھنی، پھر ایک چادر ان کو لپیٹنے کے لیے، پھر ان (کپڑوں) کے بعد ان (دختر محترمہ) کو ایک دوسرے کپڑے میں لپیٹا گیا۔ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفن لیے دروازے کے پاس تشریف فرما تھے اور ہمیں ایک ایک کپڑا دیتے جاتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3157]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 18056)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/380) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی نوح مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے لئے کفن کے پانچ کپڑے مسنون ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نوح بن حكيم مجهول (تق : 7204) وثقه ابن حبان وحده وفي السند علة أخري انظر نصب الراية (258/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 116

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3142
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ الْمَعْنَى، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ، فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ، بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ، فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ، فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ". قَالَ عَنْ مَالِكٍ: يَعْنِي إِزَارَهُ، وَلَمْ يَقُلْ مُسَدَّدٌ دَخَلَ عَلَيْنَا.
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی (زینب رضی اللہ عنہا) کا انتقال ہوا آپ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: تم انہیں تین بار، یا پانچ بار پانی اور بیر کی پتی سے غسل دینا، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھنا اور آخری بار کافور ملا لینا، اور جب غسل دے کر فارغ ہونا، مجھے اطلاع دینا، تو جب ہم غسل دے کر فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر دی، آپ نے ہمیں اپنا تہہ بند دیا اور فرمایا: اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو۔ قعنبی کی روایت میں خالک سے مروی ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازار کو۔ مسدد کی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمارے پاس آنے کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3142]
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کی وفات ہو گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تین یا پانچ بار غسل دو یا اس سے بھی زیادہ اگر ضرورت محسوس کرو، ایسے پانی کے ساتھ جس میں بیری کے پتے ملے ہوں، اور آخری بار میں کچھ کافور بھی ملا لینا، اور جب تم غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر دینا۔ چنانچہ جب ہم فارغ ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا: اسے اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں امام مالک رحمہ اللہ سے «حِقْو» کی بجائے «إِزَار» کا لفظ مروی ہے (اور معنی ایک ہی ہے یعنی تہبند) اور مسدد نے «دَخَلَ عَلَيْنَا» کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3142]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 31 (167)، والجنائز 8 (1253)، 9 (1254)، 10 (1255)، 11 (1256)، 12 (1257)، 13 (1258)، 14 (1260)، 15 (1261)، 16 (1262)، 17 (1263)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (939)، سنن الترمذی/الجنائز 15 (990)، سنن النسائی/الجنائز 28 (1882)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 8 (1458)، (تحفة الأشراف: 18094)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 1 (2)، مسند احمد (6/407، 408) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1253) صحيح مسلم (939)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں