سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب من رأى عليه كفارة إذا كان في معصية
باب: معصیت کی نذر نہ پوری کرنے پر کفارہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3293
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ: أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْ أُخْتٍ لَهُ، نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ، فَقَالَ: مُرُوهَا فَلْتَخْتَمِرْ، وَلْتَرْكَبْ، وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ ننگے پیر اور ننگے سر حج کرے گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ اپنا سر ڈھانپ لے اور سواری پر سوار ہو اور (بطور کفارہ) تین دن کے روزے رکھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3293]
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بہن کے متعلق دریافت کیا، جس نے یہ نذر مانی تھی کہ ننگے پاؤں اور ننگے سر حج کرے گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ سر پر کپڑا لے اور سواری پر سوار ہو اور تین دن کے روزے رکھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3293]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأیمان 16 (1544)، سنن النسائی/الأیمان 32 (3846)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 20 (2134) (تحفة الأشراف: 9930)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/143، 3/145، 147، 149، 151)، سنن الدارمی/النذور 2 (2379) (ضعیف)» (اس کے راوی عبیدا للہ بن زحر سخت ضعیف ہیں اس میں صیام والی بات ضعیف ہے، باقی کے صحیح شواہد موجود ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ترمذي (1544) نسائي (3846) ابن ماجه (2134)
عبيداللّٰه بن زحر ضعيف و قال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 54/5) وقال الحافظ ابن حجر : اتفق الأكثر علي توثيقه (نتائج الأفكار 303/2) وھو خطأ بل ضعفه الجمھور كما قال الھيثمي وتابعه بكر بن سوادة (أحمد 147/4) ولكن في السند إليه : ابن لھيعة وھو ضعيف من جھة حفظه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120
ضعيف
ترمذي (1544) نسائي (3846) ابن ماجه (2134)
عبيداللّٰه بن زحر ضعيف و قال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 54/5) وقال الحافظ ابن حجر : اتفق الأكثر علي توثيقه (نتائج الأفكار 303/2) وھو خطأ بل ضعفه الجمھور كما قال الھيثمي وتابعه بكر بن سوادة (أحمد 147/4) ولكن في السند إليه : ابن لھيعة وھو ضعيف من جھة حفظه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120
حدیث نمبر: 3290
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت کی نذر نہیں ہے (یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3290]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی میں کوئی نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأیمان 2 (1524)، سنن النسائی/الأیمان 40 (3865-3869)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 16 (2125)، (تحفة الأشراف: 17770)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/247) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الزھري صرح بالسماع عند النسائي (3869 وسنده صحيح)
الزھري صرح بالسماع عند النسائي (3869 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 3297
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ نَذْرِهَا، مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَهُ وَخَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب خبر ملی کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کی نذر سے بے نیاز ہے، اسے کہو: سوار ہو جائے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح اور خالد نے عکرمہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3297]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات پہنچی کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کی نذر سے بے پروا ہے، اسے حکم دو کہ سوار ہو جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اسے سعید بن ابی عروبہ نے اسی کی مانند روایت کیا ہے، نیز خالد نے بھی بواسطہ عکرمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند بیان کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ: (3292)، (تحفة الأشراف: 6197، 19121) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
قتادة تابعه مطر الوراق عند ابن طھمان في مشيخته (29 وسنده حسن)
قتادة تابعه مطر الوراق عند ابن طھمان في مشيخته (29 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 3299
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ:" نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میری بہن نے بیت اللہ پیدل جانے کی نذر مانی اور مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھ کر آؤں (کہ میں کیا کروں) تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”چاہیئے کہ پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3299]
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میری بہن نے نذر مان لی کہ بیت اللہ کو پیدل جائے گی، پھر اس نے مجھ سے کہا کہ اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کروں، چنانچہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چاہیے کہ پیدل چلے اور سوار بھی ہو لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3299]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 27 (1866)، صحیح مسلم/ النذر 4 (1644)، سنن النسائی/ الأیمان 31 (3845)، (تحفة الأشراف: 9957)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/152) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1866) صحيح مسلم (1644)