🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب ما جاء فيمن مات وعليه صيام صام عنه وليه
باب: مرنے والے کے باقی روزے اس کا ولی پورا کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3311
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ، صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3311]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کا ولی (وارث) اس کی طرف سے روزے رکھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (2400)، (تحفة الأشراف: 16382) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1952) صحيح مسلم (1147)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2400
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا فِي النَّذْرِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزے رکھے گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حکم نذر کے روزے کا ہے اور یہی احمد بن حنبل کا قول ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 2400]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے رہتے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: یہ مسئلہ نذر کی صورت میں ہے اور امام احمد حنبل رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 2400]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 42(1952)، صحیح مسلم/الصیام 27 (1147)، (تحفة الأشراف: 16382)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/69)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأیمان (3311) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1952) صحيح مسلم (1147)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3308
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" أَنَّ امْرَأَةً رَكِبَتِ الْبَحْرَ، فَنَذَرَتْ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا، فَنَجَّاهَا اللَّهُ، فَلَمْ تَصُمْ حَتَّى مَاتَتْ، فَجَاءَتِ ابْنَتُهَا، أَوْ أُخْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت بحری سفر پر نکلی اس نے نذر مانی کہ اگر وہ بخیریت پہنچ گئی تو وہ مہینے بھر کا روزہ رکھے گی، اللہ تعالیٰ نے اسے بخیریت پہنچا دیا مگر روزہ نہ رکھ پائی تھی کہ موت آ گئی، تو اس کی بیٹی یا بہن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (مسئلہ پوچھنے) آئی تو اس کی جانب سے آپ نے اسے روزے رکھنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3308]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت سمندری سفر میں گئی تو اس نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ ایک مہینہ روزے رکھے گی۔ چنانچہ اللہ نے اسے نجات دے دی، مگر اس نے روزے نہ رکھے حتیٰ کہ مر گئی۔ پس اس کی بیٹی یا بہن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اس کی طرف سے روزے رکھ لے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3308]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5464)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الأیمان 33 (3848)، مسند احمد (1/216) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه النسائي (3847 وسنده صحيح) وله شواھد عند أحمد (1/338 وسنده صحيح) وغيره

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں