سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب في الصرف
باب: بیع صرف کا بیان۔
حدیث نمبر: 3349
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ،عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى، وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْفِضَّةِ، وَالْفِضَّةُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، وَأَمَّا نَسِيئَةً فَلَا، وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، وَأَمَّا نَسِيئَةً فَلَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَهِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، بِإِسْنَادِهِ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے برابر برابر بیچو، ڈلی ہو یا سکہ، اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر برابر بیچو ڈلی ہو یا سکہ، اور گیہوں گیہوں کے بدلے برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، جو جو کے بدلے میں برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، اسی طرح کھجور کھجور کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، نمک نمک کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود دیا، سود لیا، سونے کو چاندی سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن ادھار درست نہیں، اور گیہوں کو جو سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ادھار بیچنا صحیح نہیں ۲؎“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ اور ہشام دستوائی نے قتادہ سے انہوں نے مسلم بن یسار سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3349]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کے بدلے سونا ڈلا ہو یا ڈھلا ہوا (سکہ یا زیور)، چاندی کے بدلے چاندی ڈلا ہو یا ڈھلا ہوا (سکہ)، گندم کے بدلے گندم، ایک مدی کے بدلے ایک مدی، جو کے بدلے جو ایک مدی کے بدلے ایک مدی، کھجور کھجور کے بدلے ایک مدی کے بدلے ایک مدی، نمک کے بدلے نمک ایک مدی کے بدلے ایک مدی (بیچا جائے) جو زیادہ دے یا زیادہ لے اس نے سود کا معاملہ کیا۔ سونے کو چاندی کے بدلے بیچنا جب کہ چاندی زیادہ ہو تو کوئی حرج نہیں جبکہ ہاتھوں ہاتھ (نقد) ہو، لیکن ادھار نہیں۔ گندم کو جو کے بدلے بیچنا جبکہ جو زیادہ ہوں کوئی حرج نہیں جبکہ ہاتھوں ہاتھ ہو، لیکن ادھار جائز نہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ اور ہشام دستوائی نے بواسطہ قتادہ، مسلم بن یسار سے اس کی سند سے روایت کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 15 (1587)، سنن الترمذی/ البیوع (1240)، سنن النسائی/البیوع 42 (4567)، سنن ابن ماجہ/التجارات 48 (2254)، (تحفة الأشراف: 5089)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/314، 320) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مد: شام اور مصر کا ایک پیمانہ ہے، جو پندرہ مکوک کا ہوتا ہے، اور مکوک ڈیڑھ صاع کا ہوتا ہے۔
۲؎: حاصل یہ ہے کہ جب جنس مختلف ہو تو کمی بیشی درست ہے مگر نقدا نقد ہونا ضروری ہے، ادھار درست نہیں۔
۲؎: حاصل یہ ہے کہ جب جنس مختلف ہو تو کمی بیشی درست ہے مگر نقدا نقد ہونا ضروری ہے، ادھار درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث الآتي (3350)
انظر الحديث الآتي (3350)
حدیث نمبر: 3348
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالْذَهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا چاندی کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، گیہوں گیہوں کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور کھجور کھجور کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور جو جو کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو“ (نقدا نقد ہونے کی صورت میں ان چیزوں میں سود نہیں ہے لیکن شرط یہ بھی ہے کہ برابر بھی ہوں) ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3348]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کے بدلے چاندی سود ہے سوائے اس کے کہ ہاتھوں ہاتھ (نقد) ہو، گندم کے بدلے گندم سود ہے سوائے اس کے کہ ہاتھوں ہاتھ ہو، کھجور کے بدلے کھجور سود ہے سوائے اس کے کہ ہاتھوں ہاتھ ہو، جو کے بدلے جو سود ہے سوائے اس کے کہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 54 (2134)، 74 (2170)، 76 (2174)، صحیح مسلم/البیوع 37 (1586)، سنن الترمذی/البیوع 24 (1243)، سنن النسائی/البیوع 39 (4562)، سنن ابن ماجہ/التجارات 50 (2260، 2259)، (تحفة الأشراف: 10630)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 17 (38)، مسند احمد (1/24، 25، 45)، سنن الدارمی/البیوع 41 (2620) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سونا چاندی کو سونا چاندی کے بدلے میں نقدا بیچنا یہی بیع صرف ہے،اس میں نقدا نقد ہونا ضروری ہے، ادھار درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2174) صحيح مسلم (1586)
حدیث نمبر: 3353
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنِ الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ، نُبَايِعُ الْيَهُودَ الْأُوقِيَّةَ مِنَ الذَّهَبِ بِالدِّينَارِ، قَالَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ: بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ".
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم خیبر کی لڑائی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم یہود سے سونے کا اوقیہ دینار کے بدلے بیچتے خریدتے تھے (قتیبہ کے علاوہ دوسرے راویوں نے دو دینار اور تین دینار بھی کہے ہیں، پھر آگے کی بات میں دونوں راوی ایک ہو گئے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کو سونے سے نہ بیچو جب تک کہ دونوں طرف وزن برابر نہ ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3353]
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر والے دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور یہودیوں سے ایک اوقیہ سونا (مساوی چالیس درہم) ایک دینار میں خریدتے تھے۔ قتیبہ کے علاوہ دوسروں نے کہا: ”دو یا تین دینار میں خریدتے تھے،“ پھر دوسرے راوی حدیث کے اگلے الفاظ بیان کرنے میں متفق ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کو سونے سے مت بیچو سوائے اس کے کہ وزن برابر برابر ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3353]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (3351)، (تحفة الأشراف: 11027) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1591)