🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب في التشديد في ذلك
باب: بٹائی کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3402
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا،" فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْقِيهَا، فَسَأَلَهُ، لِمَنِ الزَّرْعُ، وَلِمَنِ الْأَرْضُ؟، فَقَالَ: زَرْعِي بِبَذْرِي، وَعَمَلِي لِي الشَّطْرُ، وَلِبَنِي فُلَانٍ الشَّطْرُ، فَقَالَ: أَرْبَيْتُمَا، فَرُدَّ الْأَرْضَ عَلَى أَهْلِهَا وَخُذْ نَفَقَتَكَ".
ابن ابی نعم سے روایت ہے کہ مجھ سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک زمین میں کھیتی کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا اور وہ اس میں پانی دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کھیتی کس کی ہے اور زمین کس کی؟ تو انہوں کہا: میری کھیتی میرے بیج سے ہے اور محنت بھی میری ہے نصف پیداوار مجھے ملے گی اور نصف پیداوار فلاں شخص کو (جو زمین کا مالک ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے ربا کیا (یعنی یہ عقد ناجائز ہے) زمین اس کے مالک کو لوٹا دو، اور تم اپنے خرچ اور اپنی محنت کی اجرت لے لو۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3402]
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے زمین کاشت کر رکھی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے جبکہ وہ اسے پانی دے رہے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: یہ کس نے کاشت کی ہے اور زمین کس کی ہے؟ عرض کیا کہ کاشت میری ہے، بیج میرا ہے اور محنت بھی میری ہے، مجھے آدھا حصہ ملے گا اور آدھا بنو فلاں کو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے سود کا معاملہ کیا، زمین اس کے مالکوں کو واپس کر دو اور اپنا خرچ لے لو۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3568) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی بکیر بن عامر ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بكير ضعيف
والحديث صححه الحاكم (41/2) فقال الذھبي : ’’ بكير ضعيف‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3399
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، قَالَ: بَعَثَنِي عَمِّي أَنَا، وَغُلَامًا لَهُ، إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ شَيْءٌ بَلَغَنَا عَنْكَ فِي الْمُزَارَعَةِ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا حَتَّى بَلَغَهُ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ، فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَى بَنِي حَارِثَةَ، فَرَأَى زَرْعًا فِي أَرْضِ ظُهَيْرٍ، فَقَالَ:" مَا أَحْسَنَ زَرْعَ ظُهَيْرٍ، قَالُوا: لَيْسَ لِظُهَيْرٍ، قَالَ: أَلَيْسَ أَرْضُ ظُهَيْرٍ؟، قَالُوا: بَلَى، وَلَكِنَّهُ زَرْعُ فُلَانٍ. قَالَ: فَخُذُوا زَرْعَكُمْ، وَرُدُّوا عَلَيْهِ النَّفَقَةَ"، قَالَ رَافِعٌ: فَأَخَذْنَا زَرْعَنَا، وَرَدَدْنَا إِلَيْهِ النَّفَقَةَ، قَالَ سَعِيدٌ: أَفْقِرْ أَخَاكَ أَوْ أَكْرِهِ بِالدَّرَاهِمِ".
ابوجعفر خطمی کہتے ہیں میرے چچا نے مجھے اور اپنے ایک غلام کو سعید بن مسیب کے پاس بھیجا، تو ہم نے ان سے کہا: مزارعت کے سلسلے میں آپ کے واسطہ سے ہمیں ایک خبر ملی ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزارعت میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کی حدیث پہنچی تو وہ (براہ راست) ان کے پاس معلوم کرنے پہنچ گئے، رافع رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو حارثہ کے پاس آئے تو وہاں ظہیر کی زمین میں کھیتی دیکھی، تو فرمایا: (ماشاء اللہ) ظہیر کی کھیتی کتنی اچھی ہے لوگوں نے کہا: یہ ظہیر کی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا یہ زمین ظہیر کی نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں زمین تو ظہیر کی ہے لیکن کھیتی فلاں کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کھیت لے لو اور کھیتی کرنے والے کو اس کے اخراجات اور مزدوری دے دو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (یہ سن کر) ہم نے اپنا کھیت لے لیا اور جس نے جوتا بویا تھا اس کا نفقہ (اخراجات و محنتانہ) اسے دے دیا۔ سعید بن مسیب نے کہا: (اب دو صورتیں ہیں) یا تو اپنے بھائی کو زمین زراعت کے لیے عاریۃً دے دو (اس سے پیداوار کا کوئی حصہ وغیرہ نہ مانگو) یا پھر درہم کے عوض زمین کو کرایہ پر دو (یعنی نقد روپیہ اس سے طے کر لو)۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3399]
ابوجعفر خطمی کا بیان ہے کہ میرے چچا نے مجھے اور اپنے غلام کو جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے ہاں بھیجا اور ہم نے ان سے کہا: ہمیں آپ کی طرف سے مزارعت کے بارے میں ایک بات پہنچی ہے (وہ کیسے ہے؟) تو انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے حتیٰ کہ انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث پہنچی تو وہ خود ان کے پاس گئے، تو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے انہیں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو حارثہ کے ہاں تشریف لائے تو ظہیر کی زمین میں کھیتی دیکھی۔ تو فرمایا: ظہیر کی کھیتی کیا خوب عمدہ ہے۔ لوگوں نے کہا: یہ ظہیر کی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا زمین ظہیر کی نہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، زمین تو اس کی ہے مگر فلاں نے کاشت کر رکھی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی کھیتی لے لو اور اس کا خرچ اسے واپس کر دو۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ ہم نے اپنی کھیتی لے لی اور اس کا خرچ اسے ادا کر دیا۔ سعید (سعید بن مسیب رحمہ اللہ) نے کہا: اپنے بھائی کو عطیہ دے دو یا دراہم کے بدلے کرائے پر دے دو۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3399]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/المزارعة 2 (3920)، (تحفة الأشراف: 3558) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (3920 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3403
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ، فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ وَلَهُ نَفَقَتُهُ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دوسرے لوگوں کی زمین میں بغیر ان کی اجازت کے کاشت کی تو اسے کاشت میں سے کچھ نہیں ملے گا صرف اس کا خرچ ملے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3403]
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کی زمین مالکوں کی اجازت کے بغیر کاشت کی ہو، اس کے لیے اس کھیتی میں سے کچھ نہیں۔ البتہ خرچہ لے سکتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأحکام 29 (1366)، سنن ابن ماجہ/الرھون 13 (2466)، (تحفة الأشراف: 3570)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/465، 4/141) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1366) ابن ماجه (2466)
أبو إسحاق مدلس وعنعن
وعطاء لم يسمع من رافع بن خديج رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں