🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب في النهى أن يبيع حاضر لباد
باب: شہری دیہاتی کا مال (مہنگا کرنے کے ارادے سے) نہ بیچے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3441
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ سَالِمٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا حَدَّثَهُ، أَنَّهُ قَدِمَ بِحَلُوبَةٍ لَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَكِنِ اذْهَبْ إِلَى السُّوقِ فَانْظُرْ مَنْ يُبَايِعُكَ، فَشَاوِرْنِي حَتَّى آمُرَكَ أَوْ أَنْهَاكَ".
سالم مکی سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے ان سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی ایک دودھاری اونٹنی لے کر آیا، یا اپنا بیچنے کا سامان لے کر آیا، اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس قیام کیا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کا سامان کو بیچنے سے روکا ہے (اس لیے میں تمہارے ساتھ تمہارا دلال بن کر تو نہ جاؤں گا) لیکن تم بازار جاؤ اور دیکھو کون کون تم سے خرید و فروخت کرنا چاہتا ہے پھر تم مجھ سے مشورہ کرنا تو میں تمہیں بتاؤں گا کہ دے دو یا نہ دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3441]
جناب سالم مکی سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے ان سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی ایک دودھ والی اونٹنی لایا اور سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرا (اور چاہا کہ طلحہ اسے فروخت کر دیں) تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے فروخت کرے۔ لیکن تم خود بازار جاؤ اور دیکھو کہ کون تم سے خریدنا چاہتا ہے، پھر مجھ سے مشورہ کر لینا حتیٰ کہ میں تمہیں بتا دوں گا کہ تم نے اس سے سودا کرنا ہے یا نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5019) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں ایک راوی اعرابی مبہم ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 123

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2080
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 2080]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 2080]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 58 (2140)، الشروط 8 (2723)، النکاح 45 (5144)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1412)، سنن الترمذی/النکاح 38 (1134)، سنن النسائی/النکاح 20 (3241)، سنن ابن ماجہ/النکاح 10 (1867)، (تحفة الأشراف: 13123)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 1(1)، مسند احمد (2/238، 274، 311، 318، 394، 411، 427، 457، 462، 463، 487، 489، 558)، سنن الدارمی/النکاح 7 (2221) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2140) صحيح مسلم (1413)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2081
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا يَبِيعْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، إِلَّا بِإِذْنِهِ". قالَ سُفْيَانُ: لا يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ صَاحِبِهِ يَقُولُ عِنْدِي خَيْرٌ مِنْهَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی نہ تو اپنے بھائی کے نکاح کے پیغام پر پیغام دے اور نہ اس کے سودے پر سودا کرے البتہ اس کی اجازت سے درست ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 2081]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے اور نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے مگر اس کی اجازت سے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 2081]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8009، 8185)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 58 (2140)، النکاح 45 (5142)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1412)، البیوع 8 (1412)، سنن الترمذی/البیوع 57 (1134)، سنن النسائی/النکاح 20 (3240)، سنن ابن ماجہ/النکاح 10 (1868)، موطا امام مالک/النکاح 1(2)، والبیوع 45(95)، مسند احمد (2/122، 124، 126، 130، 142، 153)، سنن الدارمی/النکاح 7 (2222)، البیوع 33 (2609) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی جب ایک مسلمان کی کسی جگہ شادی طے ہو، تو دوسرے کے لئے وہاں پیغام دینا جائز نہیں، کیونکہ اس میں دوسرے مسلمان کی حق تلفی ہوتی ہے، اور اگر ابھی نسبت طے نہیں ہے، تو پیغام دینے میں کوئی مضائقہ و حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5142) صحيح مسلم (1412)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3436
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا تَلَقَّوْا السِّلَعَ حَتَّى يُهْبَطَ بِهَا الْأَسْوَاقَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے ۱؎ اور تاجر سے پہلے ہی مل کر سودا نہ کرے جب تک کہ وہ اپنا سامان بازار میں نہ اتار لے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3436]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص کسی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ سامان لانے والوں سے راستے میں ملے حتیٰ کہ اسے منڈی میں اتار لیا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 71 (2168)، صحیح مسلم/البیوع 5 (1517)، سنن النسائی/البیوع 18 (4507)، سنن ابن ماجہ/التجارات (2179)، (تحفة الأشراف: 8329، 8059)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ البیوع 45 (95)، مسند احمد (2/7، 22، 63، 91) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ایک کے خریدار کو دوسرا نہ بلائے، یا اس کے گاہک کو نہ توڑے، مثلا، یہ کہے کہ یہ اتنے میں دے رہا ہے، تو چل میرے ساتھ میں تجھے یہی مال اس سے اتنے کم میں دے دوں گا۔
۲؎: چونکہ تاجر کو بازار کی قیمت کا صحیح علم نہیں ہے اس لئے بازار میں پہنچنے سے پہلے اس سے سامان خریدنے میں تاجر کو دھوکہ ہو سکتا ہے، اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کے بازار میں پہنچنے سے پہلے ان سے مل کر ان کا سامان خریدنے سے منع فرما دیا ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو تاجر کو اختیار حاصل ہو گا بیع کے نفاذ اور عدم نفاذ کے سلسلہ میں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2139، 2165) صحيح مسلم (1412 بعد ح 1514)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3437
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبِ فَإِنْ تَلَقَّاهُ مُتَلَقٍّ مُشْتَرٍ، فَاشْتَرَاهُ، فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ بِالْخِيَارِ إِذَا وَرَدَتِ السُّوقَ"، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ، يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ: لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، أَنْ يَقُولَ: إِنَّ عِنْدِي خَيْرًا مِنْهُ بِعَشَرَةٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلب سے یعنی مال تجارت بازار میں آنے سے پہلے ہی راہ میں جا کر سودا کر لینے سے منع فرمایا ہے، لیکن اگر خریدنے والے نے آگے بڑھ کر (ارزاں) خرید لیا، تو صاحب سامان کو بازار میں آنے کے بعد اختیار ہے (کہ وہ چاہے اس بیع کو باقی رکھے، اور چاہے تو فسخ کر دے)۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ سفیان نے کہا کہ کسی کے بیع پر بیع نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ (خریدار کوئی چیز مثلاً گیارہ روپے میں خرید رہا ہے تو کوئی اس سے یہ نہ کہے) کہ میرے پاس اس سے بہتر مال دس روپے میں مل جائے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3437]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ منڈی میں سامان لانے والوں سے راستے ہی میں ملاقات کی جائے (یعنی سامان خرید لیا جائے)، اگر کوئی خریدار اس سے ملا ہو اور سامان خریدا ہو تو مال والے کو بازار میں آنے کے بعد اختیار ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا، سفیان رحمہ اللہ نے کہا: کوئی شخص کسی کے سودے پر سودا نہ کرے یعنی یوں کہے کہ میرے پاس اس سے دس گنا بہتر ہے۔ (ایسا کہنا جائز نہیں۔) [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البیوع (1221، 1223)، (تحفة الأشراف: 14448)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البیوع 5 (1519)، سنن النسائی/البیوع 16 (4505)، سنن ابن ماجہ/التجارات 16 (2179)، مسند احمد (2/284، 403، 488)، سنن الدارمی/البیوع 32 (2608) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (1221 وسنده صحيح) ورواه مسلم (1519)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3438
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَنَاجَشُوا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نجش نہ کرو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3438]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سودے پر دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر قیمت نہ لگاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 58 (2140)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1413)، والبیوع 4 (1520)، سنن الترمذی/البیوع 65 (1304)، سنن النسائی/البیوع 12 (4492)، سنن ابن ماجہ/التجارات (2174)، (تحفة الأشراف: 13123)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 45 (96)، مسند احمد (4/338، 354، 394، 402، 410) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: نجش یہ ہے کہ بیچی جانے والی چیز کی تعریف کر کے بائع کی موافقت کی جائے، یا خریداری کا ارادہ نہ ہو لیکن دوسرے کو پھنسانے کے لئے بیچنے والے کے سامان کی قیمت بڑھا دی جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2140) صحيح مسلم (1413)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3439
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، فَقُلْتُ: مَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ؟، قَالَ: لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی چیز بیچے، میں (طاؤس) نے کہا: شہری دیہاتی کی چیز نہ بیچے اس کا کیا مطلب ہے؟ تو ابن عباس نے فرمایا: (اس کا مطلب یہ ہے کہ) وہ اس کی دلالی نہ کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3439]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے خرید و فروخت کا کام کرے۔ (طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں) میں نے وضاحت چاہی کہ اس کا کیا مفہوم ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے دلال نہ بنے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 68 (2158)، 71 (2163)، الإجارة 14 (2274)، صحیح مسلم/البیوع6 (1521)، سنن النسائی/البیوع 16 (4504)، سنن ابن ماجہ/التجارات 15 (2177)، (تحفة الأشراف: 5706)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/368) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی بستی والا باہر سے آئے ہوئے تاجر کا دلال بن کر نہ تو اس کے ہاتھ کوئی چیز بیچے اور نہ ہی اس کے لئے کوئی چیز خریدے کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں بستی والوں کا خسارہ ہے، جب کہ باہر سے آنے والا اگر خود خرید و فروخت کرتا ہے تو وہ مسافر ہونے کی وجہ سے بازار میں جس دن پہنچا ہے اسی دن کی قیمت سے خرید و فروخت کرے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2158) صحيح مسلم (1521)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3440
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الزِّبْرِقَانِ أَبَا هَمَّامٍ حَدَّثَهُمْ، قَالَ زُهَيْرٌ: وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ أَوْ أَبَاهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت حَفْصَ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَهِيَ كَلِمَةٌ جَامِعَةٌ لَا يَبِيعُ لَهُ شَيْئًا، وَلَا يَبْتَاعُ لَهُ شَيْئًا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے اگرچہ وہ اس کا بھائی یا باپ ہی کیوں نہ ہو ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے حفص بن عمر کو کہتے ہوئے سنا: مجھ سے ابوہلال نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے محمد نے بیان کیا انہوں نے انس بن مالک سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: لوگ کہا کرتے تھے کہ شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے، یہ ایک جامع کلمہ ہے (مفہوم یہ ہے کہ) نہ اس کے واسطے کوئی چیز بیچے اور نہ اس کے لیے کوئی چیز خریدے (یہ ممانعت دونوں کو عام ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3440]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے خرید و فروخت نہ کرے اگرچہ وہ اس کا بھائی یا باپ ہی کیوں نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/البیوع 15 (4497)، (تحفة الأشراف: 525، 1454)، حدیث حفص بن عمر قد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 70 (2161)، صحیح مسلم/البیوع 6 (1523)، وحدیث زہیر بن حرب قد أخرجہ (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بلکہ اسے خود بیچنے دے کیونکہ رعایت سے بیچے گا اور خریداروں کو اس سے فائدہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البخاري (2161) ومسلم (1523)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3442
حَدَّثَنَا عُبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَذَرُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کی چیز نہ بیچے، لوگوں کو چھوڑ دو (انہیں خود سے لین دین کرنے دو) اللہ بعض کو بعض کے ذریعہ روزی دیتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3442]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے خرید و فروخت نہ کرے۔ لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ بعض کو بعض سے رزق دیتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/البیوع 6 (1522)، (تحفة الأشراف: 2721)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 13 (1223)، سنن النسائی/البیوع 15 (4500)، سنن ابن ماجہ/التجارات 15 (2177)، مسند احمد (2/379، 465) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1522)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3443
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"لَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ، فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجارتی قافلوں سے آگے بڑھ کر نہ ملو ۱؎، کسی کی بیع پر بیع نہ کرو، اور اونٹ و بکری کا تصریہ ۲؎ نہ کرو جس نے کوئی ایسی بکری یا اونٹنی خریدی تو اسے دودھ دوہنے کے بعد اختیار ہے، چاہے تو اسے رکھ لے اور چاہے تو پسند کر کے اسے واپس کر دے، اور ساتھ میں ایک صاع کھجور دیدے ۳؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3443]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (منڈی میں پہنچنے سے پہلے) خریداری کے لیے قافلوں سے مت ملو۔ اور کوئی شخص کسی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور اونٹنی یا بکری کا دودھ مت روکو۔ جس نے اس قسم کا جانور خرید لیا ہو، تو دودھ دوہ لینے کے بعد اسے دو باتوں کا اختیار ہے، اگر وہ پسند ہو تو رکھ لے اور اگر پسند نہ آئے تو اسے لوٹا دے اور ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 64 (2150)، صحیح مسلم/البیوع 4 (1515)، سنن النسائی/ البیوع 15 (4501)، سنن ابن ماجہ/التجارات 13 (2172)، (تحفة الأشراف: 13802)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 13 (1223)، موطا امام مالک/البیوع 45 (96)، مسند احمد (2/379، 465) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی مال بازار میں پہنچنے سے پہلے راستہ میں مالکان سے مل کر سودا نہ طے کر لو۔
۲؎: تھن میں دو یا تین دن تک دودھ چھوڑے رکھنے اور نہ دوہنے کو تصریہ کہتے ہیں تا کہ اونٹنی یا بکری دودھاری سمجھی جائے اور جلد اور اچھے پیسوں میں بک جائے۔
۳؎: کسی ثابت شدہ حدیث کی تردید یہ کہہ کر نہیں کی جا سکتی کہ کسی مخالف اصل سے اس کا ٹکراو ہے یا اس میں مثلیت نہیں پائی جارہی ہے اس لئے عقل اسے تسلیم نہیں کرتی بلکہ شریعت سے جو چیز ثابت ہو وہی اصل ہے اور اس پر عمل واجب ہے، اسی طرح حدیث مصراۃ ان احادیث میں سے ہے جو ثابت شدہ ہیں لہٰذا کسی قیل وقال کے بغیر اس پر عمل واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2150) صحيح مسلم (1515)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4910
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے کو پیٹھ نہ دکھاؤ (یعنی ملاقات ترک نہ کرو) اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو، اور کسی مسلمان کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ملنا جلنا چھوڑے رکھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 4910]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غصہ مت کیا کرو۔ ایک دوسرے سے حسد مت کیا کرو۔ ایک دوسرے کو پیٹھ مت دیا کرو (کہ میل جول چھوڑ دو) بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو۔ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی سے تین رات سے زیادہ میل جول چھوڑے رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 4910]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأدب 57 (6065)، 62 (6076)، صحیح مسلم/البر والصلة 7 (2559)، (تحفة الأشراف: 1530)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البر والصلة 24 (1935)، مسند احمد (3/199)، موطا امام مالک/ حسن الخلق 4 (14) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حکم ایسی ناراضگی سے متعلق ہے جو مسلمانوں کے درمیان باہمی معاشرتی حقوق میں کوتاہی کی وجہ سے ہوئی ہو، اور اگر دینی امور میں کوتاہی کی وجہ سے ہو تو یہ جائز ہے، بلکہ بدعتیوں اور ہوا پرستوں سے میل جول نہ رکھنا واجب ہے جب تک کہ وہ توبہ نہ کر لیں، اور حق کی طرف پلٹ نہ آئیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6075) صحيح مسلم (2559)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں