سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
134. باب الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُصِيبُ أَهْلَهُ فِيهِ
باب: جس کپڑے میں جماع کرے، اس میں نماز پڑھنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 366
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَأَلَ أُخْتَهُ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُهَا فِيهِ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، إِذَا لَمْ يَرَ فِيهِ أَذًى".
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے جس میں آپ جماع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کوئی گندگی نہ دیکھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 366]
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اپنی ہمشیرہ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے جس میں وہ صحبت کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، اگر اس میں کوئی نجاست نہ ہوتی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطھارة 186 (295)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 83 (540)، (تحفة الأشراف: 15868)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/427)، سنن الدارمی/الصلاة 102 (1415) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 631
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ بَعْضُهُ عَلَيَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھی جس کا کچھ حصہ میرے اوپر تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 631]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی اور اس کا کچھ حصہ مجھ پر بھی تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16071)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 51 (514)، سنن النسائی/القبلة 17 (769)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 131 (652)، مسند احمد (6/204) (صحیح)»
وضاحت: ثابت ہوا کہ اس طرح جائز ہے کہ ایک بڑی چادر یا کمبل وغیرہ کا کچھ حصہ نمازی پر ہو اور کچھ حصہ اس کی بیوی پر، خواہ وہ ایام سے بھی ہو تو کوئی حرج نہیں۔ تفصیل دیکھئیے (سنن ابوداود، حدیث ۳۶۹، ۳۷۰)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح