سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
135. باب الصلاة في شعر النساء
باب: عورتوں کے کپڑوں میں نماز نہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 367
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي شُعُرِنَا أَوْ فِي لُحُفِنَا"، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: شَكَّ أَبِي.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے شعار یا لحافوں میں نماز نہیں پڑھتے تھے ۱؎۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ شک میرے والد (معاذ) کو ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 367]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کپڑوں یا لحافوں میں نماز نہ پڑھا کرتے تھے۔“ (یعنی بالعموم) عبیداللہ نے کہا: ” «شُعُرِنَا أَوْ فِي لُحُفِنَا» کے الفاظ میں میرے والد کو شک ہوا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 367]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجمعة 67 (600)، سنن النسائی/الزینة 61 (5368)، وأعاده المؤلف برقم: 645، (تحفة الأشراف: 16221 و 17589 و 19296)، ویأتی ہذا الحدیث عند المؤلف برقم (645) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: شعار وہ کپڑا ہے جو عورت کے بدن سے لگا رہے اور لحاف اوڑھنے کی چادر کو کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کپڑوں میں نماز اس وجہ سے نہیں پڑھتے تھے کہ کہیں ان میں حیض کا خون نہ لگ گیا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 368
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُصَلِّي فِي مَلَاحِفِنَا"، قَالَ حَمَّادٌ: وَسَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي صَدَقَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْهُ، فَلَمْ يُحَدِّثْنِي، وَقَالَ: سَمِعْتُهُ مُنْذُ زَمَانٍ وَلَا أَدْرِي مِمَّنْ سَمِعْتُهُ، وَلَا أَدْرِي أَسَمِعْتُهُ مِنْ ثَبْتٍ أَوْ لَا فَسَلُوا عَنْهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری چادروں میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 368]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ”ہمارے لحافوں میں نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔“ حماد رحمہ اللہ نے کہا: ”میں نے سعید بن ابی صدقہ رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان نہیں کی اور کہا کہ میں نے اسے ایک مدت پہلے سنا تھا، معلوم نہیں کس سے سنا تھا، وہ ثقہ تھا یا نہیں۔ تم دیگر علماء سے اس کی تحقیق کر لو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 368]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 18063) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
والحديث السابق (367) شاھد له
والحديث السابق (367) شاھد له
حدیث نمبر: 645
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي شُعُرِنَا أَوْ لُحُفِنَا"، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: شَكَّ أَبِي.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے شعار یا لحاف ۱؎ میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ عبیداللہ نے کہا: میرے والد (معاذ) کو شک ہوا ہے (کہ ام المؤمنین عائشہ نے لفظ: «شعرنا» کہا، یا: «لحفنا»)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 645]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”ہمارے (یعنی ازواج مطہرات کے زیر استعمال) کپڑوں میں یا ہمارے لحافوں میں نماز نہ پڑھا کرتے تھے۔“ عبیداللہ نے کہا کہ «شُعُرِنَا أَوْ لُحُفِنَا» کے الفاظ میں میرے والد کو شک ہوا ہے (اس لیے لفظ «أَوْ» سے روایت کیا ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 645]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حديث رقم: 367، (تحفة الأشراف: 16221، 17589، 19296) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جو کپڑا جسم سے لگا رہتا ہے اسے شعار کہتے ہیں، اور اوڑھنے کی چادر کو لحاف۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح