🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب فِي اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ
باب: مشک کا منہ موڑ کر اس میں سے پینا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3720
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزوں کا منہ موڑ کر پینے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3720]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ”مشکیزوں کا منہ الٹ کر ان سے پیا جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3720]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأشربة 23 (5624)، صحیح مسلم/الأشربة 13 (2023)، سنن الترمذی/الأشربة 17 (1890)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 19 (3418)، (تحفة الأشراف: 4138)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/6، 67، 69، 93) دی/ الأشربة 19 (2165) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5625) صحيح مسلم (2023)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3719
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ، وَعَنْ رُكُوبِ الْجَلَّالَةِ وَالْمُجَثَّمَةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْجَلَّالَةُ الَّتِي تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے میں منہ لگا کر پینے سے، نجاست کھانے والے جانور کی سواری سے اور جس پرندہ کو باندھ کر تیر وغیرہ سے نشانہ لگا کر مارا گیا ہو اسے کھانے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «جلّالہ» وہ جانور ہے جو نجاست کھاتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3719]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ”مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پیا جائے اور گندگی کھانے والے جانور پر سواری کی جائے اور ایسا جانور کھایا جائے جس کو باندھ کر نشانہ مارا گیا ہو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” «الْجَلَّالَةُ» اس جانور کو کہتے ہیں جو پاخانہ کھاتا ہو۔ (یعنی جس کی یہ عادت ہو)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3719]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأطعمة 24 (1825)، سنن النسائی/الضحایا 43 (4453)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 20 (3421)، (تحفة الأشراف: 6190)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأشربة 24 (5629)، مسند احمد (1/226، 241، 293، 321، 339)، سنن الدارمی/الأشربة 19 (2163) 13 (2018) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4126)
وللحديث شواھد عند البخاري (5628) وأبي داود (2557) والترمذي (1795) وغيرھم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3722
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ، وَأَنْ يُنْفَخَ فِي الشَّرَابِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے، اور پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3722]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ”پیالے کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پیا جائے یا مشروب میں پھونک ماری جائے۔“ احمد بن حزم بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ابوسعید بن اعرابی نے بیان کیا کہ ”مجھے امام ابوداؤد رحمہ اللہ سے قرۃ بن عبدالرحمٰن بن حیوئیل «كَاسِرُ الْمُدِّ» کی بابت یہ خبر پہنچی ہے کہ انہیں (کاسر المد) ”مد توڑنے والا“ اس لیے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ انہوں نے بادشاہ کے دربار میں مد توڑ دیا تھا، تو اسی وجہ سے انہیں اسی نام سے پکارا جانے لگا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3722]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأشربة 15 (1887)، (تحفة الأشراف: 4143)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی 7 (12)، مسند احمد (3/80) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4280)
وللحديث شاھد حسن عند الطبراني في الاوسط (6829، مجمع البحرين: 4131)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں