سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب في إيكاء الآنية
باب: برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3733
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَفُضَيْلُ بْنُ عَبْدُ الْوَهَّابِ السُّكَّرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَفَعَهُ، قَالَ:" وَاكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْعِشَاءِ"، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: عِنْدَ الْمَسَاءِ فَإِنَّ لِلْجِنِّ انْتِشَارًا وَخَطْفَةً.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عشاء کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس ہی رکھو (اور مسدد کی روایت میں ہے: شام کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھو) کیونکہ یہ جنوں کے پھیلنے اور (بچوں کو) اچک لینے کا وقت ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3733]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ بدء الخلق 16 (3316)، الاستئذان 49 (6295)، سنن الترمذی/ الأدب 74 (2857)، (تحفة الأشراف: 2476)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/388) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3316) صحيح مسلم (2012)
حدیث نمبر: 2604
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَعِيثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْفَوَاشِي مَا يَفْشُو مِنْ كُلِّ شَيْءٍ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج ڈوب جائے تو اپنے جانوروں کو نہ چھوڑو یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے، کیونکہ شیاطین سورج ڈوبنے کے بعد فساد مچاتے ہیں یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے“ ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «فواشی» ہر شیٔ کا وہ حصہ ہے جو پھیل جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 2604]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الأشربة 12 (2013)، مسند احمد (3/301، 312، 362، 374، 386، 395)، (تحفة الأشراف: 2723) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پہلے پیدل یا جانوروں کی سورای والے سفر میں مغرب کے وقت ٹھہر جانا چاہئے، پھر اندھیرا ہونے پر چلنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2013)