🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب ما جاء في الضيافة
باب: ضیافت (مہمان نوازی) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3750
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْلَةُ الضَّيْفِ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ فَهُوَ عَلَيْهِ دَيْنٌ إِنْ شَاءَ اقْتَضَى وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ".
ابوکریمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان پر مہمان کی ایک رات کی ضیافت حق ہے، جو کسی مسلمان کے گھر میں رات گزارے تو ایک دن کی مہمانی اس پر قرض ہے، چاہے تو اسے وصول کر لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3750]
سیدنا ابوکریمہ (مقدام بن معدیکرب) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک رات کی ضیافت ہر مسلمان پر حق لازم (واجب) ہے۔ جو شخص کسی کے صحن میں اترے تو ضیافت اس پر قرض ہے، مہمان چاہے تو وصول کر لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3750]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الأدب 5 (3677)، (تحفة الأشراف: 11568) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (3677 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3748
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتُهُ يَوْمُهُ وَلَيْلَتُهُ الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَمَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَخْبَرَكُمْ أَشْهَبُ، قَالَ: وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ؟، فَقَالَ: يُكْرِمُهُ، وَيُتْحِفُهُ، وَيَحْفَظُهُ، يَوْمًا وَلَيْلَةً وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ضِيَافَةَ.
ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرنی چاہیئے، اس کا جائزہ ایک دن اور ایک رات ہے اور ضیافت تین دن تک ہے اور اس کے بعد صدقہ ہے، اور اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس کے پاس اتنے عرصے تک قیام کرے کہ وہ اسے مشقت اور تنگی میں ڈال دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: امام مالک سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان «جائزته يوم وليلة» کے متعلق پوچھا گیا: تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ میزبان ایک دن اور ایک رات تک اس کی عزت و اکرام کرے، تحفہ و تحائف سے نوازے، اور اس کی حفاظت کرے اور تین دن تک ضیافت کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3748]
سیدنا ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے، خوب خدمت اور مدارات ایک دن رات ہے، مہمانی تین دن ہوتی ہے، اس کے بعد صدقہ ہے۔ مہمان کے لیے حلال نہیں کہ اپنے میزبان کے پاس ڈیرا ڈال لے کہ اس کے لیے مشقت اور بوجھ بن جائے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ بسند حارث بن مسکین، اشہب سے مروی ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ» اس کا انعام ایک دن اور ایک رات ہے کا مفہوم پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: ایک دن رات اس کی خوب عزت افزائی کرے، اسے تحفہ دے اور اس کا خوب خیال کرے اور تین دن تک مہمانی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأدب 31 (6019)، 85 (6135)، الرقاق 23 (6476)، صحیح مسلم/الإیمان 19 (48)، سنن الترمذی/البر والصلة 43 (1967)، سنن ابن ماجہ/الأدب 5 (3675)، (تحفة الأشراف: 12056)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبيﷺ10 (22) مسند احمد (4/31، 6/384، 385)، سنن الدارمی/الأطعمة 11 (2078) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی پہلے دن اپنی حیثیت کے مطابق خصوصی اہتمام کرے اور باقی دو دنوں میں بغیر تکلف واہتمام کے ماحضر پیش کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6135) صحيح مسلم (48 بعد ح 1726)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3749
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہمانداری تین روز تک ہے، اور جو اس کے علاوہ ہو وہ صدقہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3749]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میزبانی تین دن ہے، جو اس کے علاوہ ہو، وہ صدقہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 12808)، وقد أخرجہ: حم(2/354) (حسن، صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
عاصم ھو ابن بھدلة

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5154
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت (قیامت) پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اچھی بات کہے یا چپ رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 5154]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ جو شخص اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اپنے ہمسائے کو دکھ نہ دے۔ اور جو شخص اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ خیر کے لفظ بولے یا خاموش رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 5154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأدب 85 (6138)، صحیح مسلم/الإیمان 19 (47)، سنن الترمذی/صفة القیامة 50 (2500)، (تحفة الأشراف: 15272)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الفتن 12 (3971)، مسند احمد (2/267، 269، 433، 463) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6138) صحيح مسلم (47)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں