🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

133. باب فِي حَقِّ الْجِوَارِ
باب: پڑوسی کے حق کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5151
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى قُلْتُ لَيُوَرِّثَنَّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل مجھے برابر پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین اور وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں (دل میں) کہنے لگا کہ وہ ضرور اسے وارث بنا دیں گے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5151]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل امین مجھے ہمسائے کے متعلق وصیت کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے خیال ہوا کہ وہ اسے وارث ہی بنا دیں گے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأدب 28 (6014)، صحیح مسلم/البر والصلة 42 (2624)، سنن الترمذی/البر والصلة 28 (1942)، سنن ابن ماجہ/الأدب 4 (3673)، (تحفة الأشراف: 17947)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/91، 125، 238) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6014) صحيح مسلم (2624)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5152
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيل، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو" أَنَّهُ ذَبَحَ شَاةً، فَقَالَ: أَهْدَيْتُمْ لِجَارِي الْيَهُودِيِّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کی تو (گھر والوں) سے کہا: کیا تم لوگوں نے میرے یہودی پڑوسی کو ہدیہ بھیجا (نہ بھیجا ہو تو بھیج دو) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے: جبرائیل مجھے برابر پڑوسی، کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرماتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان گزرا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5152]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کی اور پھر پوچھا: کیا تم نے میرے یہودی ہمسائے کی طرف بھی کچھ بھیجا ہے؟ بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جبرائیل امین مجھے ہمسائے کے متعلق وصیت کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے خیال ہوا کہ وہ اسے وارث ہی بنا دیں گے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5152]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البر والصلة 29 (1943)، (تحفة الأشراف: 8919)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/160) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (1943 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5153
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو جَارَهُ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَاصْبِرْ , فَأَتَاهُ مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَ: اذْهَبْ فَاطْرَحْ مَتَاعَكَ فِي الطَّرِيقِ , فَطَرَحَ مَتَاعَهُ فِي الطَّرِيقِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ فَيُخْبِرُهُمْ خَبَرَهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْعَنُونَهُ فَعَلَ اللَّهُ بِهِ وَفَعَلَ وَفَعَلَ فَجَاءَ إِلَيْهِ جَارُهُ، فَقَالَ لَهُ: ارْجِعْ لَا تَرَى مِنِّي شَيْئًا تَكْرَهُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اپنے پڑوسی کی شکایت کر رہا تھا، آپ نے فرمایا: جاؤ صبر کرو پھر وہ آپ کے پاس دوسری یا تیسری دفعہ آیا، تو آپ نے فرمایا: جاؤ اپنا سامان نکال کر راستے میں ڈھیر کر دو تو اس نے اپنا سامان نکال کر راستہ میں ڈال دیا، لوگ اس سے وجہ پوچھنے لگے اور وہ پڑوسی کے متعلق لوگوں کو بتانے لگا، لوگ (سن کر) اس پر لعنت کرنے اور اسے بد دعا دینے لگے کہ اللہ اس کے ساتھ ایسا کرے، ایسا کرے، اس پر اس کا پڑوسی آیا اور کہنے لگا: اب آپ (گھر میں) واپس آ جائے آئندہ مجھ سے کوئی ایسی بات نہ دیکھیں گے جو آپ کو ناپسند ہو۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5153]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اس نے اپنے ہمسائے کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور صبر کرو۔ وہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو یا تین بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا اپنا سامان راستے پر ڈال دے۔ چنانچہ اس نے اپنا مال متاع راستے پر ڈال دیا۔ لوگ اس سے پوچھنے لگے (کہ کیا ہوا؟) تو اس نے انہیں اپنے ہمسائے کا سلوک بتایا۔ تو لوگ اسے لعنت ملامت کرنے لگے۔ اللہ اس کے ساتھ ایسے کرے اور ایسے کرے۔ تو وہ ہمسایہ اس کے پاس آیا اور اس سے بولا: اپنے گھر میں واپس چلے جاؤ۔ (آئندہ) میری طرف سے کوئی ناپسندیدہ سلوک نہیں دیکھو گے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5153]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14141) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5154
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت (قیامت) پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اچھی بات کہے یا چپ رہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5154]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ جو شخص اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اپنے ہمسائے کو دکھ نہ دے۔ اور جو شخص اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ خیر کے لفظ بولے یا خاموش رہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأدب 85 (6138)، صحیح مسلم/الإیمان 19 (47)، سنن الترمذی/صفة القیامة 50 (2500)، (تحفة الأشراف: 15272)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الفتن 12 (3971)، مسند احمد (2/267، 269، 433، 463) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6138) صحيح مسلم (47)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5155
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ , وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي جَارَيْنِ بِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ؟ قَالَ: بِأَدْنَاهُمَا بَابًا" , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: طَلْحَةُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے دو پڑوسی ہیں، میں ان دونوں میں سے پہلے کس کے ساتھ احسان کروں؟ آپ نے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کا دروازہ قریب ہو اس کے ساتھ۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5155]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے دو ہمسائے ہیں۔ میں (احسان کرنے میں) کس سے ابتدا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا دروازہ زیادہ قریب ہو۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ شعبہ نے اس حدیث کی سند میں طلحہ کے تعارف میں کہا: وہ ایک قریشی آدمی تھا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5155]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الشفعة 3 (2259)، الھبة16 (2595)، الأدب32 (6020)، (تحفة الأشراف: 16163)، وقد أخرجہ: مسند احمد 6/175،193، 239) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6020)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں