سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب ما جاء في الأكل من أعلى الصحفة
باب: رکابی اور پیالے کے اوپری حصے سے نہ کھائے بلکہ کنارے سے کھائے۔
حدیث نمبر: 3772
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَأْكُلْ مِنْ أَعْلَى الصَّحْفَةِ وَلَكِنْ لِيَأْكُلْ مِنْ أَسْفَلِهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو پلیٹ کے اوپری حصے سے نہ کھائے بلکہ اس کے نچلے حصہ سے کھائے اس لیے کہ برکت اس کے اوپر والے حصہ میں نازل ہوتی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3772]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی کھانا کھانے لگے تو پیالے کے اوپر (درمیان) سے نہ کھائے بلکہ نیچے (ایک جانب) سے کھائے۔ بلاشبہ برکت اس کے اوپر کی طرف سے اترتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3772]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأطعمة 13 (1805، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 12 (3277)، (تحفة الأشراف: 5566)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/270، 300، 343، 345، 364)، سنن الدارمی/الأطعمة 16 (2090) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4211)
أخرجه ابن ماجه (3277 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (4211)
أخرجه ابن ماجه (3277 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 3773
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، قَالَ:" كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ يُقَالُ لَهَا: الْغَرَّاءُ، يَحْمِلُهَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ، فَلَمَّا أَضْحَوْا وَسَجَدُوا الضُّحَى أُتِيَ بِتِلْكَ الْقَصْعَةِ يَعْنِي وَقَدْ ثُرِدَ فِيهَا، فَالْتَفُّوا عَلَيْهَا، فَلَمَّا كَثَرُوا جَثَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا هَذِهِ الْجِلْسَةُ؟، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا، وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوا مِنْ حَوَالَيْهَا وَدَعُوا ذِرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا".
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک لگن جسے غراء کہا جاتا تھا، اور جسے چار آدمی اٹھاتے تھے، جب اشراق کا وقت ہوا اور لوگوں نے اشراق کی نماز پڑھ لی تو وہ لگن لایا گیا، مطلب یہ ہے اس میں ثرید ۱؎ بھرا ہوا تھا تو سب اس کے اردگرد اکٹھا ہو گئے، جب لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئے ۲؎ ایک اعرابی کہنے لگا: بھلا یہ بیٹھنے کا کون سا طریقہ ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے نیک (متواضع) بندہ بنایا ہے، مجھے جبار و سرکش نہیں بنایا ہے“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے کناروں سے کھاؤ اور اوپر کا حصہ چھوڑ دو کیونکہ اس میں برکت دی جاتی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3773]
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بہت بڑا طشت تھا، جسے «الْغَرَّاءُ» ”غراء“ کہا جاتا تھا، اسے چار آدمی اٹھاتے تھے۔ جب چاشت کا وقت ہوا اور انہوں نے ضحیٰ کی نماز پڑھ لی تو اس طشت کو لایا گیا جبکہ اس میں ثرید بنایا گیا تھا (یعنی شوربے میں روٹی بھگوئی گئی تھی)۔ سب لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے۔ جب لوگوں کی کثرت ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھٹنے ٹیک لیے۔ ایک بدوی نے کہا: ”بیٹھنے کا یہ کیسا انداز ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے مجھے نیک خو بندہ بنایا ہے، نہ کہ متکبر سرکش۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی اطراف سے کھاؤ اور چوٹی کو چھوڑ دو، اس میں برکت ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3773]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأطعمة 6 (3263)، 12 (3275)،(تحفة الأشراف: 5199)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة 16 (2090) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک قسم کا کھانا ہے جو روٹی اور شوربے سے تیار کیا جاتا ہے۔
۲؎: تاکہ اور لوگوں کو بھی جگہ مل جائے اور لوگ آسانی سے بیٹھ سکیں۔
۲؎: تاکہ اور لوگوں کو بھی جگہ مل جائے اور لوگ آسانی سے بیٹھ سکیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4251)
أخرجه ابن ماجه (3263 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (4251)
أخرجه ابن ماجه (3263 وسنده حسن)