🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب النهى عن أكل السباع
باب: درندہ (پھاڑ کھانے والے جانور) کھانے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3802
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ".
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھاڑ کھانے والے جانوروں میں سے ہر دانت والے جانور کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3802]
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلیوں والا درندہ کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3802]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصید 29 (5530)، الطب 57 (5780)، صحیح مسلم/الصید 3 (1932)، الأطعمة 33 (1932)، سنن الترمذی/الصید 11 (1477)، سنن النسائی/الصید 28 (4330)، 30 (4348) سنن ابن ماجہ/الصید 13 (3232)، (تحفة الأشراف: 11874)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/193، 194، 195)، سنن الدارمی/ الأضاحی 18 (2023) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5530) صحيح مسلم (1932)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3803
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت والے درندے، اور ہر پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3803]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے اور ہر پنجے دار پرندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3803]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصید 3 (1934)، (تحفة الأشراف: 6506)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الصید 33 (4353)، سنن ابن ماجہ/الصید 13 (3234)، مسند احمد (1/244، 289، 302، 327، 332، 339، 373)، دی/ الأضاحی 18 (2025) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1934)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3804
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ كَرِبَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَلَا لَا يَحِلُّ ذُو نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَلَا الْحِمَارُ الْأَهْلِيُّ، وَلَا اللُّقَطَةُ مِنْ مَالِ مُعَاهَدٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا فَلَمْ يَقْرُوهُ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ".
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! دانت والا درندہ حلال نہیں، اور نہ گھریلو گدھا، اور نہ کافر ذمی کا پڑا ہوا مال حلال ہے، سوائے اس مال کے جس سے وہ مستغنی اور بے نیاز ہو، اور جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بن کر جائے اور وہ لوگ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو اسے یہ حق ہے کہ اس کے عوض وہ اپنی مہمانی کے بقدر ان سے وصول کر لے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3804]
سیدنا مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! کچلیوں والا درندہ، پالتو گدھا اور کسی ذی (کافر) کا گرا پڑا مال حلال نہیں ہیں سوائے اس کے کہ اس کا مالک اس مال سے بے پروا ہو، اور جو کوئی کسی قوم کے پاس جائے اور وہ اس کی مہمانی نہ کریں تو اس کے لیے جائز ہے کہ ان سے اپنی مہمانی کے برابر کچھ لے لے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3804]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11571)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/العلم 10 (2663)، سنن ابن ماجہ/الصید 2 (3234)، مسند احمد (4/132) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4247)
أخرجه البيھقي (9/332) وانظر الحديث السابق (460) وصححه ابن حبان (97)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3805
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرما دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3805]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے روز ہر کچلی والا درندہ اور پنجے دار پرندہ کھانا منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3805]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/ الصید 33 (4353)، سنن ابن ماجہ/ الصید 13 (3234)، (تحفة الأشراف: 5639)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/339) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3234) نسائي (4353)
سعيد بن أبي عروبة مدلس و عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3806
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ كَرِبَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ:" غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، فَأَتَتْ الْيَهُودُ فَشَكَوْا أَنَّ النَّاسَ قَدْ أَسْرَعُوا إِلَى حَظَائِرِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا لَا تَحِلُّ أَمْوَالُ الْمُعَاهَدِينَ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحَرَامٌ عَلَيْكُمْ حُمُرُ الْأَهْلِيَّةِ، وَخَيْلُهَا، وَبِغَالُهَا، وَكُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلُّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ".
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں نے خیبر کا غزوہ کیا، تو یہود آ کر شکایت کرنے لگے کہ لوگوں نے ان کے باڑوں کی طرف بہت جلدی کی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! جو کافر تم سے عہد کر لیں ان کے اموال تمہارے لیے جائز نہیں ہیں سوائے ان کے جو جائز طریقے سے ہوں اور تمہارے لیے گھریلو گدھے، گھوڑے، خچر، ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے حرام ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3806]
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک تھا۔ چنانچہ یہودی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) آئے اور شکایت کی کہ لوگ (مسلمان) ان کے باڑوں پر چڑھ دوڑے ہیں (یعنی مال مویشی لوٹ لیے ہیں)۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! معاہد (ذمی) لوگوں کا مال حلال نہیں سوائے اس کے کہ شرعی اور اصولی حق ہو، تم پر پالتو گدھے، گھوڑے، خچر، کچلیوں والے درندے اور پنجے دار پرندے حرام ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3806]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: 3790، (تحفة الأشراف: 3508)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/89) (ضعیف منکر)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی صالح ضعیف، اور یحییٰ مجہول ہیں، نیز خالد رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر تک مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے تو اس میں شریک کیسے ہوئے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
صالح بن يحيي بن مقدام :لين،وأبوه مستور كما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں