سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب في الطيرة
باب: بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3913
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ الْبَرْقِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ، حَدَّثَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ، وَزَيدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا غُولَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھوت پریت کو کسی کو نقصان پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3913]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا غُولَ» ”کوئی جن بھوت نہیں (کہ جنگلوں میں مختلف شکلوں سے لوگوں کو راہ سے بھٹکائے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3913]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12322، 12829، 12868) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3911
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلانِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَّةَ". فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ، فَيُجْرِبُهَا، قَالَ: فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ، قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يُورِدَنَّ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ، قَالَ: فَرَاجَعَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ حَدَّثَنَا عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ؟" قَالَ: لَمْ أُحَدِّثْكُمُوهُ؟ قَالَ الزُّهْرِيُّ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: قَدْ حَدَّثَ بِهِ وَمَا سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ نَسِيَ حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی چیز میں نحوست ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے اور نہ کسی مردے کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے“ تو ایک بدوی نے عرض کیا: پھر ریگستان کے اونٹوں کا کیا معاملہ ہے؟ وہ ہرن کے مانند (بہت ہی تندرست) ہوتے ہیں پھر ان میں کوئی خارشتی اونٹ جا ملتا ہے تو انہیں بھی کیا خارشتی کر دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا پہلے اونٹ کو کس نے خارشتی کیا؟“۔ معمر کہتے ہیں: زہری نے کہا: مجھ سے ایک شخص نے ابوہریرہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی بیمار اونٹ تندرست اونٹ کے ساتھ پانی پلانے کے لیے نہ لایا جائے“ پھر وہ شخص ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور ان سے کہا: کیا آپ نے مجھ سے یہ حدیث بیان نہیں کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے، اور نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے“ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، اور کہا: میں نے اسے آپ لوگوں سے نہیں بیان کیا ہے۔ زہری کا بیان ہے: ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ انہوں نے اسے بیان کیا تھا، اور میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کبھی کوئی حدیث بھولتے نہیں سنا سوائے اس حدیث کے۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3911]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مرض متعدی نہیں، نہ بدشگونی ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے، نہ مردے کی کھوپڑی میں سے کوئی الو وغیرہ نکلتا ہے۔“ ایک بدوی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ ان اونٹوں کے متعلق کیا کہیں گے جو ریگستان میں ہرنیوں کے مانند ہوتے ہیں، مگر ان میں کوئی خارش زدہ اونٹ آ ملتا ہے تو سب کو خارش والا کر دیتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا پہلے کو کس نے بیماری لگائی تھی؟“ معمر نے کہا کہ زہری نے ایک آدمی کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”کسی بیمار کو صحت مند کے ساتھ ہرگز نہ ملاؤ۔“ تو اس آدمی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ نے ہمیں یہ حدیث بیان نہیں کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی، نہ کوئی صفر کا مہینہ منحوس ہے اور نہ کسی مردے کی کھوپڑی سے الو نکلتا ہے۔““ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”میں نے تمہیں ایسی کوئی حدیث بیان نہیں کی۔“ زہری نے کہا کہ ابوسلمہ نے کہا: ”حدیث تو انہوں نے بیان کی تھی اور میں نے نہیں سنا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس حدیث کے سوا کبھی کوئی حدیث بھولی ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3911]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 25 (5717)، 45 (5757)، 53 (5770)، 54 (5772)، (تحفة الأشراف: 15273، 15502)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام 33 (2223)، مسند احمد (2/267، 327، 397) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5770) صحيح مسلم (2220)
حدیث نمبر: 3912
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا نَوْءَ وَلَا صَفَرَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے، نہ نچھتر کوئی چیز ہے، اور نہ صفر کے مہینہ میں نحوست ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3912]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی، نہ کسی مردے سے کوئی الو نکلتا ہے، نہ کسی ستارے کی کوئی تاثیر ہے اور نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14068)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الطب 33 (2220)، مسند احمد (2/397) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2220 بعد ح 2221)
حدیث نمبر: 3915
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الصَّالِحُ وَالْفَأْلُ الصَّالِحُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، اور نہ بد شگونی کوئی چیز ہے، اور فال نیک سے مجھے خوشی ہوتی ہے اور فال نیک بھلی بات ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3915]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور نہ کوئی بدفالی ہے، البتہ نیک شگونی مجھے بھلی لگتی ہے۔ نیک شگونی (کی ایک صورت یہ ہے کہ) آدمی کوئی اچھا کلمہ سن لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3915]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 44 (5756)، 54 (5776)، سنن الترمذی/السیر 47 (1615)، (تحفة الأشراف: 1358)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام 34 (2224)، مسند احمد (3/118، 154، 178) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3916
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قال: قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ، قَوْلُهُ هَامَ، قَالَ: كَانَت الْجَاهِلِيَّةُ تَقُولُ: لَيْسَ أَحَدٌ يَمُوتُ، فَيُدْفَنُ، إِلَّا خَرَجَ مِنْ قَبْرِهِ هَامَةٌ، قُلْتُ: فَقَوْلُهُ" صَفَرَ" قَالَ: سَمِعْتُ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَسْتَشْئِمُونَ بِصَفَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَفَرَ"، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَدْ سَمِعْنَا مَنْ يَقُولُ هُوَ وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ، فَكَانُوا يَقُولُونَ هُوَ يُعْدِي، فَقَالَ:" لَا صَفَرَ".
بقیہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن راشد سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «هام» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے: جو آدمی مرتا ہے اور دفن کر دیا جاتا ہے تو اس کی روح قبر سے ایک جانور کی شکل میں نکلتی ہے، پھر میں نے پوچھا آپ کے قول «لا صفر» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے سنا ہے کہ جاہلیت کے لوگ «صفر» کو منحوس جانتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صفر» میں نحوست نہیں ہے۔ محمد بن راشد کہتے ہیں: میں نے کچھ لوگوں کو کہتے سنا ہے: «صفر» پیٹ میں ایک قسم کا درد ہے، لوگ کہتے تھے: وہ متعدی ہوتا ہے (یعنی ایک کو دوسرے سے لگ جاتا ہے) تو آپ نے فرمایا: ” «صفر» کوئی چیز نہیں ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3916]
محمد بن راشد نے «هَامّ» کی وضاحت میں کہا: ”اہلِ جاہلیت سمجھتے تھے کہ مردہ جب دفن کیا جاتا ہے تو اس کی قبر سے ایک الو نکلتا ہے۔“ «صَفَر» کے متعلق پوچھا تو کہا: ”اہلِ جاہلیت (اس مہینہ) صفر کو منحوس سمجھتے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نفی فرما دی۔“ محمد بن راشد نے کہا: ”ہم نے کئی لوگوں سے سنا ہے کہ اس سے مراد ”پیٹ کا درد“ ہے اور وہ اسے متعدی سمجھتے تھے تو فرمایا گیا کہ «لَا صَفَرَ» ”کوئی صفر نہیں۔““ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3916]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5756) صحيح مسلم (2224)
حدیث نمبر: 3921
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، أَنَّ الْحَضْرَمِيَّ بْنَ لَاحِقٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" لَا هَامَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَإِنْ تَكُنْ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ، فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ".
سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”مردے کی روح جانور کی شکل میں نہیں نکلتی، اور نہ کسی کی بیماری کسی کو لگتی ہے، اور نہ کسی چیز میں نحوست ہے، اور اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3921]
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”کسی مردے سے کوئی الو نہیں نکلتا، نہ کوئی مرض متعدی ہوتا ہے اور نہ بدشگونی ہے، اگر ہو بھی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہو سکتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3921]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: تفردبہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3861)، وقد أخرجہ: حم (1/180، 186) (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4586)
مشكوة المصابيح (4586)