سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب فيمن أعتق عبيدا له لم يبلغهم الثلث
باب: کوئی شخص اپنے غلاموں کو آزاد کرے جو تہائی مال سے زائد ہوں تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 3959
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَلَمْ يَقُلْ، فَقَالَ لَهُ: قَوْلًا شَدِيدًا وَمَعْنَاهُ وَلَمْ يَقُلْ، فَقَالَ لَهُ: قَوْلًا شَدِيدًا.
اس سند سے بھی ابوقلابہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اور اس میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سخت سست کہا۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3959]
جناب ابوقلابہ رحمہ اللہ نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا، مگر اس میں یہ جملہ نہیں ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بڑی سخت بات فرمائی۔“ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10880) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (2958)
انظر الحديث السابق (2958)
حدیث نمبر: 3958
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْن،" أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: قَوْلًا شَدِيدًا ثُمَّ دَعَاهُمْ، فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اس اسے سخت سست کہا پھر انہیں بلایا اور ان کے تین حصے کئے: پھر ان میں قرعہ اندازی کی پھر ان میں سے دو کو (جن کے نام قرعہ میں نکلے) آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3958]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ایک شخص نے اپنی وفات کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دیے۔ اس شخص کے پاس ان کے سوا کوئی اور مال نہ تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بڑی سخت بات فرمائی۔ پھر ان غلاموں کو بلوایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کیا۔ پھر ان میں قرعہ اندازی کر کے دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3958]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 12 (1668)، سنن الترمذی/الأحکام 27 (1364)، سنن النسائی/الجنائز 65 (1960)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 20 (2345)، (تحفة الأشراف: 10880)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/426، 431، 438، 440) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1668)