سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3997
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ:" أَنْبَأَنِي مَنْ أَقْرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مَنْ أَقْرَأَهُ مَنْ أَقْرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيَوْمَئِذٍ لا يُعَذِّبُ سورة الفجر آية 25"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَرَأَ عَاصِمٌ، وَالْأَعْمَشُ، وَطَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، وَأَبُو جَعْفَرٍ يَزِيدُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، وَشَيْبَةُ بْنُ نَصَّاحٍ، وَنَافِعُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ الدَّارِيُّ، وَأَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلَاءِ، وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، وَقَتَادَةُ، وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، وَمُجَاهِدٌ، وَحُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ لَا يُعَذِّبُ وَلَا يُوثِقُ إِلَّا الْحَدِيثَ الْمَرْفُوعَ فَإِنَّه يُعَذَّبُ بِالْفَتْحِ.
ابوقلابہ کہتے ہیں: مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہے یا جسے ایک ایسے شخص نے پڑھایا ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا یا ہے کہ «فيومئذ لا يعذب» (مجہول کے صیغہ کے ساتھ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم، اعمش، طلحہ بن مصرف، ابوجعفر یزید بن قعقاع، شیبہ بن نصاح، نافع بن عبدالرحمٰن، عبداللہ بن کثیر داری، ابوعمرو بن علاء، حمزہ زیات، عبدالرحمٰن اعرج، قتادہ، حسن بصری، مجاہد، حمید اعرج، عبداللہ بن عباس اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے «لا يعذب ولا يوثق» صیغہ معروف کے ساتھ پڑھا ہے مگر مرفوع روایت میں «يعذب» (ذال کے فتحہ کے ساتھ) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3997]
جناب ابوقلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”مجھے اس شخص نے بتایا جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا۔“ یا کہا: ”مجھے اس شخص نے پڑھایا جس کو اس شخص نے پڑھایا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا ﴿فَيَوْمَئِذٍ لَا يُعَذَّبُ﴾ [سورة الفجر: 25] ( «ذَال» کے زبر، یعنی مجہول صیغے کے ساتھ)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”عاصم، اعمش، طلحہ بن مصرف، ابوجعفر یزید بن قعقاع، شیبہ بن نصاح، نافع بن عبدالرحمٰن، عبداللہ بن کثیر داری، ابوعمرو بن العلاء، حمزہ زیات، عبدالرحمٰن اعرج، قتادہ، حسن بصری، مجاہد، حمید اعرج، عبداللہ بن عباس اور عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہم یہ سبھی حضرات «لَا يُعَذِّبُ وَلَا يُوثِقُ» پڑھتے ہیں ( «ذَال» اور «ثَا» کے کسرہ، یعنی معروف صیغے کے ساتھ)۔ مگر مرفوع حدیث میں «يُعَذَّبُ» «ذَال» کے فتحہ کے ساتھ مروی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3997]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 15608) (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (3996)
انظر الحديث السابق (3996)
حدیث نمبر: 3996
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ" عَمَّنْ أَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيَوْمَئِذٍ لا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ {25} وَلا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ {26} سورة الفجر آية 25-26"، قَالَ أَبُو دَاوُد: بَعْضُهُمْ أَدْخَلَ بَيْنَ خَالِدٍ وأَبِي قِلَابَةَ رَجُلًا.
ابوقلابہ ایک ایسے شخص سے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہے روایت کرتے ہیں (کہ یہ آیت کریمہ اس طرح ہے) «فيومئذ لا يعذب عذابه أحد * ولا يوثق وثاقه أحد» ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے خالد اور ابوقلابہ کے درمیان ایک مزید واسطہ داخل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3996]
جناب ابوقلابہ اس شخص سے روایت کرتے ہیں جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا: ” ﴿فَيَوْمَئِذٍ لَا يُعَذَّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ وَلَا يُوثَقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الفجر: 25، 26] “ یعنی «يُعَذَّبُ» اور «يُوثَقُ» مجہول صیغوں کے ساتھ۔ ”امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض راویوں نے خالد اور ابوقلابہ کے درمیان ایک راوی کا اضافہ کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3996]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف: 15608)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/71) (ضعیف الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یعنی صیغہ مجہول کے ساتھ جب کہ مشہور قرات دونوں میں صیغہ معروف کے ساتھ ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه أحمد (5/71)
أخرجه أحمد (5/71)