سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب الاستنجاء بالحجارة
باب: پتھر سے استنجاء کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 40
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ، فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ يَسْتَطِيبُ بِهِنَّ، فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے جائے تو تین پتھر اپنے ساتھ لے جائے، انہی سے استنجاء کرے، یہ اس کے لیے کافی ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 40]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی پاخانہ کے لیے جانے لگے تو اپنے ساتھ تین ڈھیلے لے جایا کرے، ان سے استنجاء کر لیا کرے، بیشک یہ اس کے لیے کفایت کریں گے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 40]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطھارة 40 (44)، (تحفة الأشراف: 16757)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/108، 133)، سنن الدارمی/الطھارة 11 (697) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (349)
وصححه الدارقطني (1/54،55) وسنده حسن
مشكوة المصابيح (349)
وصححه الدارقطني (1/54،55) وسنده حسن
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: لَقَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ، قَالَ: أَجَلْ، لَقَدْ" نَهَانَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، وَأَنْ لا نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ، وَأَنْ لا يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، أَوْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ عَظْمٍ".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان سے (بطور استہزاء) یہ کہا گیا کہ تمہارے نبی نے تو تمہیں سب چیزیں سکھا دی ہیں حتیٰ کہ پاخانہ کرنا بھی، تو انہوں نے (فخریہ انداز میں) کہا: ہاں، بیشک ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو پاخانہ اور پیشاب کے وقت قبلہ رخ ہونے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے، استنجاء میں تین سے کم پتھر استعمال کرنے اور گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 7]
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کسی نے ان سے کہا: ”تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو تمہیں سبھی چیزیں سکھائی ہیں حتیٰ کہ پیشاب پاخانے کا طریقہ بھی!“ انہوں نے کہا: ”ہاں! بلاشبہ (اس میں ہمارے لیے کوئی عیب کی بات نہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیشاب، پاخانے کے وقت قبلہ رخ ہونے اور دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ ہم میں سے کوئی تین ڈھیلوں سے کم میں استنجاء نہ کرے اور گوبر اور ہڈی سے بھی استنجاء نہ کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 7]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطھارة 17 (262)، سنن الترمذی/الطھارة 12 (16)، سنن النسائی/الطھارة 37 (41)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 16 (316)، (تحفة الأشراف: 4505)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/437، 438، 439) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (262)
حدیث نمبر: 8
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ بِمَنْزِلَةِ الْوَالِدِ، أُعَلِّمُكُمْ، فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ، فَلا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلا يَسْتَدْبِرْهَا وَلَا يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ، وَكَانَ يَأْمُرُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ وَيَنْهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(لوگو!) میں تمہارے لیے والد کے درجے میں ہوں، تم کو (ہر چیز) سکھاتا ہوں، تو جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف منہ اور پیٹھ کر کے نہ بیٹھے، اور نہ (ہی) داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (استنجاء کے لیے) تین پتھر لینے کا حکم فرماتے، اور گوبر اور ہڈی کے استعمال سے روکتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 8]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ میں تمہارے لیے والد کی مانند ہوں، تمہیں سکھاتا ہوں۔ جب تم میں سے کوئی پاخانے کے لیے آئے تو قبلہ رخ ہو کر نہ بیٹھے اور نہ قبلے کی طرف پشت کرے اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجاء کرے۔“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیا کرتے تھے کہ (کم از کم) تین ڈھیلے استعمال کیا کریں اور گوبر اور ہڈی سے منع فرمایا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 8]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطھارة 36 (40)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 16 (313)، (تحفة الأشراف: 12859)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/247، 250) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (347)
ابن عجلان صرح بالسماع عند النسائي (40)
مشكوة المصابيح (347)
ابن عجلان صرح بالسماع عند النسائي (40)
حدیث نمبر: 41
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِاسْتِطَابَةِ، فَقَالَ:" بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا رَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ.
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استنجاء کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”استنجاء تین پتھروں سے کرو جن میں گوبر نہ ہو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابواسامہ اور ابن نمیر نے بھی ہشام بن عروہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 41]
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استنجاء کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین ڈھیلوں سے (استنجاء کرے) ان میں گوبر نہ ہو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابواسامہ اور ابن نمیر نے بھی ہشام بن عروہ سے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 41]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطھارة 16 (315)، (تحفة الأشراف: 3529)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/213، 214) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف،ابن ماجه (315)
عمرو بن خزيمة مجهول الحال،لم يوثقه غير ابن حبان
وحديث مسلم (262) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 15
إسناده ضعيف،ابن ماجه (315)
عمرو بن خزيمة مجهول الحال،لم يوثقه غير ابن حبان
وحديث مسلم (262) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 15