سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب ما جاء في الكبر
باب: تکبر اور گھمنڈ کی برائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4091
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْقَسْمَلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ مِثْلَهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکتا جس کے دل میں رائی کے برابر کبر و غرور ہو اور وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو سکتا جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4091]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہوا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا اور جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہوا وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا۔“ امام ابوداؤد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”قسملی نے اعمش سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4091]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 39 (91)، سنن الترمذی/البر والصلة 61 (1998)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 9 (59)، (تحفة الأشراف: 9421)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/287، 412، 416، 2/164، 3/12،17) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (91)
حدیث نمبر: 4092
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ:" أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رَجُلًا جَمِيلًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ حُبِّبَ إِلَيَّ الْجَمَالُ وَأُعْطِيتُ مِنْهُ مَا تَرَى حَتَّى مَا أُحِبُّ أَنْ يَفُوقَنِي أَحَدٌ، إِمَّا قَالَ بِشِرَاكِ نَعْلِي، وَإِمَّا قَالَ بِشِسْعِ نَعْلِي، أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَلِكَ؟ قَالَ: لَا وَلَكِنَّ الْكِبْرَ: مَنْ بَطِرَ الْحَقَّ وَغَمَطَ النَّاسَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ ایک خوبصورت آدمی تھا اس نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے خوبصورتی پسند ہے، اور مجھے خوبصورتی دی بھی گئی ہے جسے آپ دیکھ رہے ہیں یہاں تک کہ میں نہیں چاہتا کہ خوبصورتی اور زیب و زینت میں مجھ سے کوئی میری جوتی کے تسمہ کے برابر بھی بڑھنے پائے، کیا یہ کبر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ کبر یہ ہے کہ حق بات کی تغلیط کرے، اور لوگوں کو کمتر سمجھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4092]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور وہ ایک خوبصورت آدمی تھا۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے خوبصورتی پسند ہے اور مجھے یہ حاصل بھی ہے جیسے کہ آپ دیکھ رہے ہیں، حتیٰ کہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی جوتے کے تسمے میں بھی مجھ سے بڑھ جائے۔“ اور اس نے لفظ «بِشِرَاكِ نَعْلِي» کہا یا «بِشِسْعِ نَعْلِي» ”کیا یہ کیفیت تکبر اور بڑائی میں سے ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، تکبر یہ ہے جو حق کو ٹھکرائے اور لوگوں کو حقیر جانے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14540) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شواھد منھا الحديث السابق (4091)
وللحديث شواھد منھا الحديث السابق (4091)