سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب ما جاء في الجلاجل
باب: پیروں میں گھونگھرو پہننا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4230
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ ابْنِ الزُّبَيْرِ،" أَخْبَرَهُ أَنَّ مَوْلَاةً لَهُمْ ذَهَبَتْ بِابْنَةِ الزُّبَيْرِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَفِي رِجْلِهَا أَجْرَاسٌ، فَقَطَعَهَا عُمَرُ ثُمّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ مَعَ كُلِّ جَرَسٍ شَيْطَانًا".
عامر بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ان کی ایک لونڈی زبیر کی ایک بچی کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر گئی، اس بچی کے پاؤں میں گھنٹیاں تھیں یعنی گھونگھرو تھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کاٹ دیا، اور کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ہر گھنٹی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4230]
عامر بن عبداللہ بن زبیر کا بیان ہے کہ ہماری ایک لونڈی زبیر کی ایک لڑکی کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاں لے گئی۔ اس لڑکی کے پاؤں میں گھونگرو تھے۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو کاٹ ڈالا اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”ہر گھنٹی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔“” [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4230]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10681) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
وقال المنذري : ’’ ومولاة لھم مجهولة،وعامر لم يدرك عمر بن الخطاب‘‘ (عون المعبود 148/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150
إسناده ضعيف
وقال المنذري : ’’ ومولاة لھم مجهولة،وعامر لم يدرك عمر بن الخطاب‘‘ (عون المعبود 148/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150
حدیث نمبر: 2556
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فِي الْجَرَسِ مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھنٹی کے بارے میں فرمایا: ”وہ شیطان کی بانسری ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 2556]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھنٹی کے متعلق فرمایا: ”یہ شیطان کا باجا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 2556]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14025)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 27 (2114)، مسند احمد (2/366) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2114)
حدیث نمبر: 4231
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ بُنَانَةَ مَوْلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: بَيْنَمَا هِيَ عِنْدَهَا إِذْ دُخِلَ عَلَيْهَا بِجَارِيَةٍ وَعَلَيْهَا جَلَاجِلُ يُصَوِّتْنَ، فَقَالَتْ: لَا تُدْخِلْنَهَا عَلَيَّ إِلَّا أَنْ تَقْطَعُوا جَلَاجِلَهَا، وَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جَرَسٌ".
عبدالرحمٰن بن حسان کی لونڈی بنانہ کہتی ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھیں کہ اسی دوران ایک لڑکی آپ کے پاس آئی، اس کے پاؤں میں گھونگھرو بج رہے تھے تو آپ نے کہا: اسے میرے پاس نہ آنے دو جب تک تم انہیں کاٹ نہ دو، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں گھنٹی ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4231]
بنانہ، سیدنا عبدالرحمٰن بن حیان انصاری رضی اللہ عنہ کی لونڈی بیان کرتی ہیں کہ میں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں بیٹھی ہوئی تھی کہ ان کے پاس ایک لڑکی بھیجی گئی جس نے آواز دار گھونگرو پہنے ہوئے تھے، تو انہوں نے کہا: ”اسے میرے پاس مت لاؤ ورنہ اس کے گھونگرو کاٹ ڈالو۔“ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس گھر میں گھنٹی ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4231]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17852)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/242، 243) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بنانة : لا تعرف (تق : 8546) وابن جريج مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150
إسناده ضعيف
بنانة : لا تعرف (تق : 8546) وابن جريج مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150