سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ذكر الفتن ودلائلها
باب: فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 4244
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ سُبَيْعِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: أَتَيْتُ الْكُوفَةَ فِي زَمَنِ فُتِحَتْ تُسْتَرُ أَجْلُبُ مِنْهَا بِغَالًا، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا صَدْعٌ مِنَ الرِّجَالِ وَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ تَعْرِفُ إِذَا رَأَيْتَهُ أَنَّهُ مِنْ رِجَالِ أَهْلِ الْحِجَازِ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَتَجَهَّمَنِي الْقَوْمُ، وَقَالُوا: أَمَا تَعْرِفُ هَذَا؟ هَذَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ، فَأَحْدَقَهُ الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أَرَى الَّذِي تُنْكِرُونَ، إِنِّي قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ هَذَا الْخَيْرَ الَّذِي أَعْطَانَا اللَّهُ أَيَكُونُ بَعْدَهُ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبْلَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: السَّيْفُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ مَاذَا يَكُونُ، قَالَ: إِنْ كَانَ لِلَّهِ خَلِيفَةٌ فِي الْأَرْضِ، فَضَرَبَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ فَأَطِعْهُ وَإِلَّا فَمُتْ وَأَنْتَ عَاضٌّ بِجِذْلِ شَجَرَةٍ، قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مَعَهُ نَهْرٌ وَنَارٌ فَمَنْ وَقَعَ فِي نَارِهِ وَجَبَ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ، وَمَنْ وَقَعَ فِي نَهْرِهِ وَجَبَ وِزْرُهُ وَحُطَّ أَجْرُهُ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ هِيَ قِيَامُ السَّاعَةِ".
سبیع بن خالد کہتے ہیں کہ تستر فتح کئے جانے کے وقت میں کوفہ آیا، وہاں سے میں خچر لا رہا تھا، میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ چند درمیانہ قد و قامت کے لوگ ہیں، اور ایک اور شخص بیٹھا ہے جسے دیکھ کر ہی تم پہچان لیتے کہ یہ اہل حجاز میں کا ہے، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ تو لوگ میرے ساتھ ترش روئی سے پیش آئے، اور کہنے لگے: کیا تم انہیں نہیں جانتے؟ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہیں، پھر حذیفہ نے کہا: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے، اور میں آپ سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا، تو لوگ انہیں غور سے دیکھنے لگے، انہوں نے کہا: جس پر تمہیں تعجب ہو رہا ہے وہ میں سمجھ رہا ہوں، پھر وہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ اس خیر کے بعد جسے اللہ نے ہمیں عطا کیا ہے کیا شر بھی ہو گا جیسے پہلے تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ میں نے عرض کیا: پھر اس سے بچاؤ کی کیا صورت ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تلوار“ ۱؎ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر اس کے بعد کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ کی طرف سے کوئی خلیفہ (حاکم) زمین پر ہو پھر وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگائے، اور تمہارا مال لوٹ لے جب بھی تم اس کی اطاعت کرو ورنہ تم درخت کی جڑ چبا چبا کر مر جاؤ ۲؎“ میں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر دجال ظاہر ہو گا، اس کے ساتھ نہر بھی ہو گی اور آگ بھی جو اس کی آگ میں داخل ہو گیا تو اس کا اجر ثابت ہو گیا، اور اس کے گناہ معاف ہو گئے، اور جو اس کی (اطاعت کر کے) نہر میں داخل ہو گیا تو اس کا گناہ واجب ہو گیا، اور اس کا اجر ختم ہو گیا“ میں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر قیامت قائم ہو گی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4244]
سبیع بن خالد نے بیان کیا کہ جس زمانے میں (خوزستان میں) تستر کا علاقہ فتح ہوا، میں کوفہ آیا۔ میں یہاں سے خچر حاصل کرنا چاہتا تھا۔ میں مسجد میں چلا گیا تو میں نے وہاں چند آدمی دیکھے جن کی قامت و جسامت متوسط قسم کی تھی، اور (ساتھ ہی) ایک اور آدمی بھی بیٹھا ہوا تھا، جسے دیکھ کر آپ کہہ سکتے تھے کہ یہ حجازی آدمی ہے۔ میں نے پوچھا کہ ”یہ کون ہے؟“ تو لوگوں نے ناپسندیدگی کے سے انداز میں دیکھا اور کہا: ”کیا تم انہیں نہیں جانتے ہو؟ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہیں۔“ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”دیگر صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق پوچھا کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے متعلق سوال کیا کرتا تھا (کہ کہیں اس میں ملوث نہ ہو جاؤں)“ تو ان لوگوں نے ان کو غور سے دیکھا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں خوب سمجھتا ہوں جو تمہیں برا لگتا ہے۔“ میں نے عرض کیا تھا: ”اے اللہ کے رسول! یہ خیر جو اللہ نے ہمیں عنایت فرمائی ہے کیا اس کے بعد شر ہو گا جیسے کہ اس سے پہلے تھا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا: ”تو اس سے بچاؤ کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تلوار۔“ قتیبہ نے اپنی روایت میں کہا: میں (حذیفہ رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: ”کیا تلوار سے کوئی فائدہ ہو گا؟“ فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا کہ ”کیا؟“ فرمایا: ”صلح ہو گی جس میں (بباطن) خیانت ہو گی، دھوکا ہو گا۔“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اس کے بعد کیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر زمین میں اللہ کا کوئی خلیفہ ہو اور وہ تمہاری کمر پر مارے اور تمہارا مال چھین لے تب بھی اس کی اطاعت کرنا، ورنہ اس حال میں مر جانا کہ تم (جنگل میں) کسی درخت کی جڑ چبا کر گزارہ کرنے والے ہو۔“ میں نے عرض کیا: ”پھر کیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال آئے گا، اس کے پاس نہر ہو گی اور آگ، جو اس کی آگ میں پڑا اس کا اجر ثابت ہوا اور اس کے گناہ ختم ہوئے اور جو اس کی نہر میں پڑا اس کے گناہ ثابت ہوئے اور اجر ضائع ہو گئے۔“ میں نے عرض کیا: ”پھر کیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر قیامت آ جائے گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4244]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3332)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب 25 (3606)، صحیح مسلم/الإمارة 13 (1847)، سنن ابن ماجہ/الفتن 13 (2981)، مسند احمد (5/386، 403، 404، 406) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایسے فتنہ پردازوں کو قتل کر دینا ہی اس کا علاج ہو گا۔
۲؎: یعنی ایسے بے دینوں کی صحبت چھوڑ کر جنگل میں رہنا منظور کر لو اور فقر وفاقہ میں زندگی گزار کر اس دنیا سے رخصت ہو جاؤ۔
۲؎: یعنی ایسے بے دینوں کی صحبت چھوڑ کر جنگل میں رہنا منظور کر لو اور فقر وفاقہ میں زندگی گزار کر اس دنیا سے رخصت ہو جاؤ۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (5396)
قتادة تابعه الثقة حميد بن ھلال عند النسائي في الكبريٰ (7979، نسخة أخريٰ 8032) وغيره
مشكوة المصابيح (5396)
قتادة تابعه الثقة حميد بن ھلال عند النسائي في الكبريٰ (7979، نسخة أخريٰ 8032) وغيره
حدیث نمبر: 4246
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: أَتَيْنَا الْيَشْكُرِيَّ فِي رَهْطٍ مِنْ بَنِي لَيْثٍ، فَقَالَ: مِنَ الْقَوْمُ؟ قُلْنَا: بَنُو لَيْثٍ أَتَيْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: فِتْنَةٌ وَشَرٌّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ هَذَا الشَّرِّ خَيْرٌ؟ قَالَ: يَا حُذَيْفَةُ تَعَلَّمْ كِتَابَ اللَّهِ وَاتَّبِعْ مَا فِيهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ هَذَا الشَّرِّ خَيْرٌ؟ قَالَ: هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ وَجَمَاعَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ فِيهَا أَوْ فِيهِمْ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْهُدْنَةُ عَلَى الدَّخَنِ مَا هِيَ؟ قَالَ: لَا تَرْجِعُ قُلُوبُ أَقْوَامٍ عَلَى الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ عَلَيْهَا دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ النَّارِ فَإِنْ تَمُتْ يَا حُذَيْفَةُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جِذْلٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتَّبِعَ أَحَدًا مِنْهُمْ.
نصر بن عاصم لیثی کہتے ہیں کہ ہم بنی لیث کے کچھ لوگوں کے ساتھ یشکری کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ ہم نے کہا: ہم بنی لیث کے لوگ ہیں ہم آپ کے پاس حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پوچھنے آئے ہیں؟ تو انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فتنہ اور شر ہو گا“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شر کے بعد پھر خیر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حذیفہ! اللہ کی کتاب کو پڑھو اور جو کچھ اس میں ہے اس کی پیروی کرو“ آپ نے یہ تین بار فرمایا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس شر کے بعد پھر خیر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «هدنة على الدخن» ہو گا اور جماعت ہو گی جس کے دلوں میں کینہ و فساد ہو گا“ میں نے عرض کیا: «هدنة على الدخن» کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے دل اس حالت پر نہیں واپس آئیں گے جس پر پہلے تھے ۱؎“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک ایسا اندھا اور بہرا فتنہ ہو گا (اور اس کے قائد) جہنم کے دروازوں پر بلانے والے ہوں گے، تو اے حذیفہ! تمہارا جنگل میں درخت کی جڑ چبا چبا کر مر جانا بہتر ہو گا اس بات سے کہ تم ان میں کسی کی پیروی کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4246]
نصر بن عاصم لیثی نے بیان کیا کہ ہم بنو لیث کے چند لوگ خالد بن خالد یشکری کے ہاں گئے۔ انہوں نے پوچھا: ”آپ کون لوگ ہیں؟“ ہم نے بتایا کہ: ”بنو لیث سے ہیں۔ ہم آپ کی خدمت میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث معلوم کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔“ تو انہوں نے وہ حدیث بیان کی، کہا کہ: ”ہم (بنو لیث کے لوگ) سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ واپس لوٹے۔ جبکہ کوفہ میں جانور (خچر وغیرہ) مہنگے تھے۔ تو میں اور میرے ساتھی نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اجازت چاہی تو انہوں نے ہمیں اجازت دے دی۔ تو میں نے اپنے ساتھی (نصر بن عاصم) سے کہا کہ: ”میں مسجد جاتا ہوں اور جب منڈی شروع ہو گی، میں تمہارے پاس آ جاؤں گا۔““ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہاں ایک حلقہ لگا ہوا ہے، گویا ان کے سر کٹے ہوئے (ہمہ تن گوش) ہیں، ایک آدمی کی بات بڑے غور سے سن رہے ہیں۔ میں بھی ان میں جا کھڑا ہوا تو ایک آدمی میرے پہلو میں آ کھڑا ہوا۔ میں نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ اس نے کہا: ”کیا تم بصرہ کے ہو؟“ میں نے کہا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: ”میں جان گیا ہوں، اگر تم کوفہ کے ہوتے تو اس شخص کے بارے میں نہ پوچھتے۔“ چنانچہ میں اس گفتگو کرنے والے کے قریب ہو گیا (اور وہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے) تو میں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ: ”لوگ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھتے تھے اور میں شر کے بارے میں سوال کرتا تھا۔ اور مجھے یقین تھا کہ میں خیر سے محروم نہیں رہوں گا۔“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد شر ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حذیفہ! اللہ کی کتاب سیکھ (اور پڑھا کر) اور جو اس میں ہے اس کی پیروی کر۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا۔ کہتے ہیں کہ میں نے پھر دریافت کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد شر ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حذیفہ! اللہ کی کتاب سیکھ (اور پڑھا کر) اور جو اس میں ہے اس کی اتباع کر۔“ اور حدیث بیان کی، اس میں ہے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فتنہ ہو گا اور فساد ہو گا۔“ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اس شر کے بعد خیر ہو گی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حذیفہ! اللہ کی کتاب سیکھو اور جو اس میں ہے اس کی اتباع کرتے رہو۔“ تین بار فرمایا۔ کہتے ہیں: ”اے اللہ کے رسول! کیا اس شر کے بعد خیر ہو گی؟“ فرمایا: ”صلح ہو گی خیانت والی۔ اتفاق و اجتماع ہو گا مگر کدورت والا۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! «الْهُدْنَةُ عَلَى الدَّخَنِ» سے کیا مراد ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے دل پہلے کی سی کیفیت پر واپس نہیں آئیں گے۔“ کہتے ہیں، میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟“ فرمایا: ”فتنہ ہو گا اندھا اور بہرا۔ اور اس کے قائد دوزخ کے دروازوں کی طرف دعوت دینے والے ہوں گے۔ تو اے حذیفہ! اگر تم اس حال میں مر جاؤ کہ تم کسی درخت کی جڑ کو چبانے والے ہو تو یہ کیفیت تمہارے لیے اس سے بہتر ہو گی کہ ان میں سے کسی کی اتباع کرو۔““ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4246]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (4245)، (تحفة الأشراف: 3307) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی لوگوں کے دل پہلے کی طرح صاف نہیں ہوں گے ان کے دلوں میں بغض و کینہ باقی رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5395)
سبيع بن خالد اليشكري البصري وثقه العجلي المعتدل وابن حبان وغيرھما فھو ثقة
مشكوة المصابيح (5395)
سبيع بن خالد اليشكري البصري وثقه العجلي المعتدل وابن حبان وغيرھما فھو ثقة
حدیث نمبر: 4247
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ صَخْرِ بْنِ بَدْرِ الْعِجْلِيِّ، عَنْ سُبَيْعِ بْنِ خَالِدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدْ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةً فَاهْرُبْ حَتَّى تَمُوتَ فَإِنْ تَمُتْ وَأَنْتَ عَاضٌّ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ؟ قَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا نَتَجَ فَرَسًا لَمْ تُنْتَجْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ.
اس سند سے بھی حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے کہ ان دنوں میں اگر مسلمانوں کا کوئی خلیفہ (حاکم) تمہیں نہ ملے تو بھاگ کر (جنگل میں) چلے جاؤ یہاں تک کہ وہیں مر جاؤ، اگر تم درخت کی جڑ چبا چبا کر مر جاؤ (تو بہتر ہے ایسے بے دینوں میں رہنے سے) اس روایت کے آخر میں یہ ہے کہ میں نے کہا: پھر اس کے بعد کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی کی گھوڑی بچہ جننا چاہتی ہو تو وہ نہ جن سکے گی یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4247]
سبیع بن خالد نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ان ایام میں کوئی خلیفہ نہ پاؤ تو بھاگ جانا حتیٰ کہ مر جاؤ۔ اور اگر تمہاری موت اس حال میں آئے کہ تم کسی درخت کی جڑ چبانے والے ہوئے (تو یہ بہتر ہو گا)۔“ کہتے ہیں، ”میں نے عرض کیا: اس کے بعد کیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی نے چاہا کہ اس کی گھوڑی بچہ جنے، تو وہ بچہ نہیں جن پائے گی کہ قیامت آ جائے گی۔“ (یعنی بہت جلد ایسا ہو گا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4247]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4244، (تحفة الأشراف: 3332) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کے بعد قیامت بہت قریب ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (5396)
صخر بن بدر تابعه نصر بن عاصم، انظر الحديث السابق (4246)
مشكوة المصابيح (5396)
صخر بن بدر تابعه نصر بن عاصم، انظر الحديث السابق (4246)