🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب خروج الدجال
باب: دجال کے نکلنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4317
‏‏‏‏ شعبہ سے ک ف ر مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4317]
محمد بن مثنی نے بواسطہ محمد بن جعفر، شعبہ سے روایت کیا کہ (یوں لکھا ہو گا) «ك ف ر» ک ف ر۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1241)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2933)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4316
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:"مَا بُعِثَ نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ أَلَا وَإِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَإِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبًا كَافِرٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا گیا جس نے اپنی امت کو کانے اور جھوٹے دجال سے ڈرایا نہ ہو، تو خوب سن لو کہ وہ کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے، اور اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ یعنی پیشانی پر کافر لکھا ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4316]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ جو بھی کوئی نبی مبعوث ہوا ہے اس نے اپنی امت کو کانے، جھوٹے دجال سے ڈرایا ہے۔ خبردار! وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے، بیشک دجال کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا «كَافِرٌ» کافر۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الفتن 26 (7131) التوحید 17 (7408)، صحیح مسلم/الفتن 20 (2933)، سنن الترمذی/الفتن62 (2245)، (تحفة الأشراف: 1241)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/103، 173، 276، 290) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7131) صحيح مسلم (2933)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں