🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب الأمر والنهى
باب: امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4338
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ. ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ الْمَعْنَى، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ أَنْ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ وَتَضَعُونَهَا عَلَى غَيْرِ مَوَاضِعِهَا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105 قَالَ: عَنْ خَالِدٍ، وَإِنَّا سَمِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ، وَقَالَ عَمْرٌو، عَنْ هُشَيْمٍ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي ثُمَّ يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا ثُمَّ لَا يُغَيِّرُوا إِلَّا يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ مِنْهُ بِعِقَابٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ كَمَا قَالَ خَالِدٌ أَبُو أُسَامَةَ، وَجَمَاعَةٌ وَقَالَ شُعْبَةُ فِيهِ مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي هُمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يَعْمَلُهُ.
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: لوگو! تم آیت کریمہ «عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» اے ایمان والو اپنی فکر کرو جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ ہے وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا (سورۃ المائدہ: ۱۰۵) پڑھتے ہو اور اسے اس کے اصل معنی سے پھیر کر دوسرے معنی پر محمول کر دیتے ہو۔ وھب کی روایت جسے انہوں نے خالد سے روایت کیا ہے، میں ہے: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں، اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لے۔ اور عمرو کی حدیث میں جسے انہوں نے ہشیم سے روایت کی ہے مذکور ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس قوم میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں، پھر وہ اسے روکنے پر قادر ہو اور نہ روکے تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو عذاب میں گرفتار کر لے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے ابواسامہ اور ایک جماعت نے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے خالد نے کیا ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: اس میں یہ بات بھی ہے کہ ایسی کوئی قوم نہیں جس میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں اور زیادہ تر افراد گناہ کے کام میں ملوث ہوں اور ان پر عذاب نہ آئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4338]
جناب قیس (قیس بن ابی حازم) نے بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (اپنے خطبے میں) اللہ عزوجل کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: اے لوگو! تم یہ آیت کریمہ پڑھتے تو ہو ﴿عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 105] اے ایمان والو! اپنی فکر کرو، جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ ہو اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔ مگر اس کے معنی و مفہوم غلط سمجھتے ہو۔ خالد نے روایت کیا، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: بلاشبہ لوگ جب کسی کو ظلم کرتا دیکھیں اور پھر اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہوتا ہے کہ اللہ ان سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لے۔ اور عمرو (عمرو بن عون) نے ہشیم سے روایت کرتے ہوئے کہا: حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس قوم میں اللہ کی نافرمانی کے کام ہوں اور وہ انہیں روکنے پر قادر ہوں مگر منع نہ کرتے ہوں تو قریب ہوتا ہے کہ اللہ اس سبب سے ان سب کو اپنے عقاب کی لپیٹ میں لے لے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کو اسی طرح جیسے کہ خالد نے روایت کیا ہے، ابواسامہ اور ایک بڑی جماعت نے بیان کیا ہے، جب کہ شعبہ نے یوں بیان کیا: جس کسی قوم میں نافرمانیاں ہوتی ہوں اور معاصی سے بچنے والوں کی تعداد زیادہ اور دوسروں کی کم ہو (اور پھر بھی وہ نہ روکیں) تو ان سب پر عقاب آنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الفتن 8 (2168)، تفسیر القرآن سورة المائدة 19 (3057)، سنن ابن ماجہ/الفتن 20 (4005)، (تحفة الأشراف: 6615)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/2، 5، 7،9) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (5142، 5147)
أخرجه ابن ماجه (4005 وسنده صحيح) إسماعيل بن أبي خالد صرح بالسماع عند أحمد (1/5)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4339
حَدَّثَنَا مُسَّدَدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، أَظُنُّهُ عَنْ ابْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا عَلَيْهِ فَلَا يُغَيِّرُوا إِلَّا أَصَابَهُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَمُوتُوا".
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو آدمی کسی ایسی قوم میں ہو جس میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں اور وہ اسے روکنے پر قدرت رکھتا ہو اور نہ روکے تو اللہ اسے مرنے سے پہلے ضرور کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4339]
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کوئی ایسی قوم میں ہو کہ ان میں اللہ کی نافرمانیاں کی جا رہی ہوں اور وہ لوگ ان کی اصلاح اور ان کے بدلنے پر قادر ہوں، اس کے باوجود وہ ان کی اصلاح نہ کریں اور انہیں نہ بدلیں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو ان کے مرنے سے پہلے عذاب دے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3242)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الفتن 20 (4009) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (4009)
عبيد اللّٰه بن جرير مجهول الحال (وإليه أشار في التقريب : 4280) ولم يوثقه غير ابن حبان وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں