سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب الأمر والنهى
باب: امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4346
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ مُغِيرَةَ ابْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، قَالَ: مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا.
عدی بن عدی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے اس کو دیکھا اور ناپسند کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اسے دیکھا ہی نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4346]
سیدنا عدی بن عدی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا۔ کہا: ”جو اس میں حاضر تھا مگر اس نے اسے مکروہ اور ناپسند جانا تو وہ ایسے ہوا جیسے کہ اس سے غائب اور دور رہا ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9894، 19006) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (4345) والآتي (4347)
انظر الحديث السابق (4345) والآتي (4347)
حدیث نمبر: 4345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ الْمُوصِلِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ الْعُرْسِ ابْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا عُمِلَتِ الْخَطِيئَةُ فِي الْأَرْضِ كَانَ مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا، وَقَالَ: مَرَّةً أَنْكَرَهَا كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا وَمَنْ غَابَ عَنْهَا فَرَضِيَهَا كَانَ كَمَنْ شَهِدَهَا".
عرس بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زمین پر گناہ کے کام کئے جاتے ہوں تو جو شخص وہاں حاضر رہا اور اسے ناپسند کیا یا برا جانا اس کی مثال اس شخص کے مانند ہے جس نے اسے دیکھا ہی نہ ہو، اور جو شخص وہاں حاضر نہ تھا لیکن اسے پسند کیا تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو وہاں حاضر تھا“ (یعنی اسے بھی گناہ سے رضا مندی کے باعث گناہ ملے گا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4345]
جناب عرس بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زمین میں کوئی خطا اور نافرمانی کی جائے تو اس میں حاضر اور موجود شخص نے اس کو برا جانا اور اس کا انکار کیا، تو وہ ایسے ہوگا جیسے اس معصیت سے غائب اور دور رہا، لیکن جو غائب اور دور تھا مگر اس نافرمانی کو اس نے پسند کیا، تو وہ ایسے ہوگا جیسے کہ اس میں حاضر اور موجود تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4345]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9894) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5141)
مشكوة المصابيح (5141)