🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب في الرجل يزني بحريمه
باب: محرم سے زنا کرنے والے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4457
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قُسَيْطٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقِيتُ عَمِّي وَمَعَهُ رَايَةٌ، فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ تُرِيدُ، قَالَ:" بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَآخُذَ مَالَهُ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا سے ملا ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی ہے، اور حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن مار دوں اور اس کا مال لے لوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4457]
جناب یزید بن براء اپنے والد (براء رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں اپنے چچا سے ملا جبکہ ان کے پاس جھنڈا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ نکاح کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن مار دوں اور اس کا مال لے لوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 15534) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3172)
أخرجه النسائي (3334 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4456
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" بَيْنَا أَنَا أَطُوفُ عَلَى إِبِلٍ لِي ضَلَّتْ إِذْ أَقْبَلَ رَكْبٌ أَوْ فَوَارِسُ مَعَهُمْ لِوَاءٌ، فَجَعَلَ الْأَعْرَابُ يَطِيفُونَ بِي لِمَنْزِلَتِي مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَتَوْا قُبَّةً فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهَا رَجُلًا فَضَرَبُوا عُنُقَهُ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَذَكَرُوا أَنَّهُ أَعْرَسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک گمشدہ اونٹ کو ڈھونڈ رہا تھا کہ اسی دوران کچھ سوار آئے، ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا، تو دیہاتی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری قربت کی وجہ سے میرے اردگرد گھومنے لگے، اتنے میں وہ ایک قبہ کے پاس آئے، اور اس میں سے ایک شخص کو نکالا اور اس کی گردن مار دی، تو میں نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4456]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں اپنے گمشدہ اونٹ ڈھونڈ رہا تھا کہ اونٹ سواروں یا گھوڑ سواروں کا ایک قافلہ آیا، ان کے ساتھ جھنڈا تھا۔ چونکہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ایک مقام حاصل تھا، اس وجہ سے اعرابی لوگ میرے اردگرد پھرنے لگے۔ پھر وہ ایک قبہ پر آئے، وہاں سے انہوں نے ایک مرد کو نکالا اور اس کی گردن اڑا دی۔ میں نے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ نکاح کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأحکام 25 (1362)، سنن النسائی/النکاح 58 (3333)، سنن ابن ماجہ/الحدود 35 (2607)، (تحفة الأشراف: 15534، 1766)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/292، 295، 297)، سنن الدارمی/النکاح 43 (2285) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3172)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں