سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب الإمام يأمر بالعفو في الدم
باب: امام (حاکم) خون معاف کر دینے کا حکم دے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4498
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" قُتِلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ، فَقَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْوَلِيِّ: أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ثُمَّ قَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ، قَالَ: فَخَلَّى سَبِيلَهُ، قَالَ: وَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ فَسُمِّيَ ذَا النِّسْعَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص قتل کر دیا گیا تو یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش کیا گیا، آپ نے اس (قاتل) کو مقتول کے وارث کے حوالے کر دیا، قاتل کہنے لگا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میرا ارادہ اسے قتل کرنے کا نہ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وارث سے فرمایا: ”سنو! اگر یہ سچا ہے اور تم نے اسے قتل کر دیا، تو تم جہنم میں جاؤ گے“ یہ سن کر اس نے قاتل کو چھوڑ دیا، اس کے دونوں ہاتھ ایک تسمے سے بندھے ہوئے تھے، وہ اپنا تسمہ گھسیٹتا ہوا نکلا، تو اس کا نام ذوالنسعۃ یعنی تسمہ والا پڑ گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4498]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی قتل ہو گیا اور اس کا مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے قاتل کو مقتول کے وارث کے حوالے کر دیا۔ قاتل نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نے اس کے قتل کا ارادہ نہیں کیا تھا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے وارث سے فرمایا: ”خبردار! اگر یہ سچا ہوا پھر تو نے اس کو قتل کر دیا تو، تو جہنم میں جائے گا۔“ چنانچہ اس نے اس کو چھوڑ دیا۔ راوی نے بتایا کہ وہ قاتل چمڑے کی ایک لمبی پٹی سے بندھا ہوا تھا، چنانچہ وہ اپنی پٹی کو گھسیٹتا ہوا چلا گیا اور پھر اس کا نام ہی «ذُو النِّسْعَةِ» ”پٹی والا“ پڑ گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4498]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدیات 13 (1407)، سنن النسائی/القسامة 3 (4726)، سنن ابن ماجہ/الدیات 34 (2690)، (تحفة الأشراف: 12507) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الحديث الآتي (4499) شاھد له
الحديث الآتي (4499) شاھد له
حدیث نمبر: 4499
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، حَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ:" كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جِيءَ بِرَجُلٍ قَاتِلٍ فِي عُنُقِهِ النِّسْعَةُ، قَالَ: فَدَعَا وَلِيَّ الْمَقْتُولِ، فَقَالَ: أَتَعْفُو؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَتَقْتُلُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ بِهِ، فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ: أَتَعْفُو؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَتَقْتُلُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ بِهِ، فَلَمَّا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ، قَالَ: أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِهِ، قَالَ: فَعَفَا عَنْهُ، قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ النِّسْعَةَ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک قاتل لایا گیا، اس کی گردن میں تسمہ تھا آپ نے مقتول کے وارث کو بلوایا، اور اس سے پوچھا: ”کیا تم معاف کرو گے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا دیت لو گے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا تم قتل کرو گے؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا لے جاؤ اسے“ چنانچہ جب وہ (اسے لے کر) چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم اسے معاف کرو گے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دیت لو گے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم قتل کرو گے؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ“ چوتھی بار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! اگر تم اسے معاف کر دو گے تو یہ اپنا اور مقتول دونوں کا گناہ اپنے سر پر اٹھائے گا“ یہ سن کر اس نے اسے معاف کر دیا۔ وائل کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھا وہ اپنے گلے میں پڑا تسمہ گھسیٹ رہا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4499]
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک قاتل لایا گیا، اس کی گردن میں چمڑے کی ایک پٹی (بندھی ہوئی) تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی کو بلایا اور اس سے فرمایا: ”کیا تم معاف کرتے ہو؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم دیت لینا قبول کرتے ہو؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا قتل کرو گے؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اسے لے جاؤ۔“ پس جب اس نے پشت پھیری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر) پوچھا: ”کیا معاف کرتے ہو؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا دیت لیتے ہو؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا قتل کرو گے؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ لے جاؤ۔“ پھر چوتھی بار فرمایا: ”اگر تم اس کو معاف کر دو تو یہ اپنے اور اپنے مقتول دونوں کے گناہ اپنے سر لے گا۔“ راوی نے کہا: ”چنانچہ اس نے اس کو معاف کر دیا۔“ وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے قاتل کو دیکھا کہ وہ اپنی پٹی گھسیٹے جا رہا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4499]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/القسامة 10 (1680)، سنن النسائی/القسامة 3 (4728)، القضاء 25 (5417)، (تحفة الأشراف: 11769)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الدیات 8 (2404) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1680)