🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب العجماء والمعدن والبئر جبار
باب: اگر بے زبان جانور کسی کو زخمی کر دے اور آدمی کان یا کنواں اپنی زمین میں کھدوائے اور اس میں کوئی مر جائے تو ان چیزوں میں تاوان لازم نہ ہو گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4593
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْعَجْمَاءُ الْمُنْفَلِتَةُ الَّتِي لَا يَكُونُ مَعَهَا أَحَدٌ، وَتَكُونُ بِالنَّهَارِ لَا تَكُونُ بِاللَّيْلِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانور کسی کو زخمی کر دے تو اس میں ہرجانہ نہیں ہے، کان میں ہلاک ہونے والے کا ہرجانہ نہیں ہے اور کنواں میں ہلاک ہو جانے والے کا ہرجانہ نہیں ہے ۱؎ اور رکاز میں پانچواں حصہ دینا ہو گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جانور سے مراد وہ جانور ہے جو چھڑا کر بھاگ گیا ہو اور اس کے ساتھ کوئی نہ ہو اور دن ہو، رات نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4593]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانور کا زخمی کر دینا، معدنی کان میں حادثہ ہو جانا یا کنویں میں گر پڑنا سب ضائع ہیں اور اگر کسی کو کوئی دفینہ ملے تو اس میں خمس ہے۔ (پانچواں حصہ ادا کرنا شرعی حق ہے)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جانور جب بھاگ گیا ہو اور اس کے ساتھ کوئی نہ ہو اور یہ حادثہ دن کے وقت ہوا ہو رات میں نہ ہوا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4593]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3085)، (تحفة الأشراف: 13128، 15147) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی جانور کسی کو زخمی کر دے یا کان اور کنویں میں گر کر کوئی ہلاک ہو جائے تو ان کے مالکوں پر اس کی دیت نہ ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1499) صحيح مسلم (1710)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4592
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الرِّجْلُ جُبَارٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الدَّابَّةُ تَضْرِبُ بِرِجْلِهَا وَهُوَ رَاكِبٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جانور کا) پاؤں باطل و رائیگاں ہے اس کی کوئی دیت نہیں ہو گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جانور پیر سے مار دے جب کہ وہ اس پہ سوار ہو تو اس کی کوئی دیت نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4592]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جانور کا) لات مار دینا ضائع ہے اور معدنی کان (کا نقصان) ضائع ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: جانور کا مالک اس پر سوار ہو اور وہ لات مار دے (تو ضائع ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4592]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13120) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سفيان بن حسين ضعيف عن الزھري وصحيح الحديث عن غيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 162

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4594
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ. ح وحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ الصَّنْعَانِيُّ، كِلَاهُمَا عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النَّارُ جُبَارٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ باطل ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4594]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ (سے ہونے والا نقصان) ضائع ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4594]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14796، 14699)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات 27 (2676) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی کسی نے اپنی زمین پر آگ جلائی اور وہ وہاں سے اڑ کر کسی کے گھر یا سامان میں لگ گئی تو جلا نے والے پر کوئی تاوان نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2952)
أخرجه ابن ماجه (2676 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں