سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب في الرجل يجلس بين الرجلين بغير إذنهما
باب: ایک آدمی بلا اجازت دو آدمی کے درمیان بیٹھے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4844
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ:" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يُجْلَسْ بَيْنَ رَجُلَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو آدمیوں کے درمیان گھس کر ان کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھا جائے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4844]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو آدمیوں کے درمیان گھس کر مت بیٹھا جائے سوائے اس کے کہ وہ اجازت دے دیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4844]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8723) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4704)
أخرجه الترمذي (2752 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (4704)
أخرجه الترمذي (2752 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4845
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر گھس کر دونوں میں جدائی ڈال دے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4845]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے لیے حلال نہیں کہ دو آدمیوں کو جدا جدا کر دے (جو مل کر بیٹھے ہوئے ہوں تو ان میں گھس بیٹھے) الا یہ کہ ان دونوں کی اجازت ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4845]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأدب 12 (1753)، (تحفة الأشراف: 8656)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/213) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4703)
أخرجه الترمذي (2752 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (4703)
أخرجه الترمذي (2752 وسنده حسن)