🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
60. باب كراهية الغناء والزمر
باب: گانے بجانے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4925
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ ابْنِ عُمَرَ إِذْ مَرَّ بِرَاعٍ يَزْمُرُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قال أَبُو دَاوُد: أُدْخِلَ بَيْنَ مُطْعِمٍ وَنَافِعٍ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى.
نافع کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے سوار تھا، کہ ان کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا جو بانسری بجا رہا تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4925]
(مذکورہ بالا روایت کے سلسلے میں) جناب نافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا کہ ان کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا جو بانسری بجا رہا تھا۔ اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند ذکر کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مطعم (مطعم بن مقدام) اور نافع کے درمیان سلیمان بن موسیٰ کا واسطہ بڑھا دیا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4925]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8448) (حسن صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4924
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ:" سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ مِزْمَارًا، قَالَ: فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ وَنَأَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَقَالَ لِي: يَا نَافِعُ هَلْ تَسْمَعُ شَيْئًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: فَرَفَعَ إِصْبَعَيْهِ مِنْ أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ مِثْلَ هَذَا فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا" , قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْلُؤْلُئِيُّ: سَمِعْت أَبَا دَاوُد، يَقُولُ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک باجے کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں اور راستے سے دور ہو گئے اور مجھ سے کہا: اے نافع! کیا تمہیں کچھ سنائی دے رہا ہے میں نے کہا: نہیں، تو آپ نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکالیں، اور فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس جیسی آواز سنی تو آپ نے بھی اسی طرح کیا۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا: یہ حدیث منکر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4924]
جناب نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بانسری کی آواز سنی تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں پر رکھ لیں اور راستے سے دور چلے گئے۔ اور پھر مجھ سے پوچھا: اے نافع! کیا بھلا کچھ سن رہے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں سے اٹھا لیں اور کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: یہ حدیث منکر (ضعیف) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4924]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7672)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/8، 38) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4811)
وانظر الحديث الآتي (4925)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4926
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مَيْمُونٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَسَمِعَ صَوْتَ زَامِرٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قال أَبُو دَاوُد وَهَذَا أَنْكَرُهَا.
نافع کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا تو آپ نے ایک بانسری بجانے والے کی آواز سنی پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ان احادیث میں سب سے زیادہ منکر ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4926]
جناب میمون بن مہران، نافع سے روایت کرتے ہیں کہ ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ انہوں نے ایک بانسری والے کی آواز سنی۔ اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند ذکر کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت سب سے زیادہ منکر (ضعیف) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4926]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8510) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: صاحب عون المعبود لکھتے ہیں: «ولا یعلم وجہ النکارۃ بل إسنادہ قوی ولیس بمخالف لروایۃ الثقات» یعنی ابوداود نے اسے «أنکر الروایۃ»  کیوں کہا اس کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہو سکی بلکہ سنداً یہ قوی روایت ہے اور ثقات کی روایت کے بھی مخالف نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
ميمون ھو ابن مھران وأبو المليح ھو الحسن بن عمر الرقّي

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں