🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
75. باب من رأى أن لا يجمع بينهما
باب: محمد نام اور ابوالقاسم کنیت ایک ساتھ نہ رکھے اس کے قائلین کی دلیل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4966
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي، فَلَا يَتَكَنَّى بِكُنْيَتِي، وَمَنْ تَكَنَّى بِكُنْيَتِي، فَلَا يَتَسَمَّى بِاسْمِي" , قَالَ أبو داود: وَرَوَى بِهَذَا الْمَعْنَى ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُخْتَلِفًا عَلَى الرِّوَايَتَيْنِ، وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , اخْتُلِفَ فِيهِ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ , وَابْنُ جُرَيْجٍ عَلَى مَا قال أَبُو الزُّبَيْرِ، وَرَوَاهُ مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَلَى مَا قال ابْنُ سِيرِينَ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا عَلَى الْقَوْلَيْنِ اخْتَلَفَ فِيهِ حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میرا نام رکھے، وہ میری کنیت نہ رکھے، اور جو میری کنیت رکھے، وہ میرا نام نہ رکھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی مفہوم کی حدیث ابن عجلان نے اپنے والد سے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور ابوزرعہ کی روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان دونوں روایتوں سے مختلف روایت کی گئی ہے، اور اسی طرح عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کی روایت جسے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں بھی کچھ اختلاف ہے، اسے ثوری اور ابن جریج نے ابو الزبیر کی طرح روایت کیا ہے، اور اسے معقل بن عبیداللہ نے ابن سیرین کی طرح روایت کیا ہے، اور جسے موسیٰ بن یسار نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں بھی اختلاف کیا گیا ہے، حماد بن خالد اور ابن ابی فدیک کے دو مختلف قول ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4966]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2983، 13612)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/313) (منکر)» ‏‏‏‏ (ابوالزبیر مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، صحیح بخاری میں سالم بن ابی الجعد نے جابر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  «سمو ا بأسمی ولا تکنوا بکنیتي'' الأدب 6187» )
وضاحت: ۱؎: خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دونوں لفظوں کے ساتھ آئی ہے: اس طرح بھی جیسے محمد بن سیرین نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے، جو یہ ہے «تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي» میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو اور اس طرح بھی جیسے ابوالزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، دونوں روایتوں میں فرق یہ ہے کہ بطریق ابوالزبیر عن جابر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور کنیت الگ الگ رکھنے کا جواز ثابت ہو رہا ہے، اور بطریق ابن سیرین ابوہریرہ کی روایت سے نام رکھنے کا جواز اور کنیت رکھنے کا عدم جواز ثابت ہو رہا ہے، صحیح بخاری کی حدیث بطریق سالم بن ابی الجعد عن جابر رضی اللہ عنہ: ابن سیرین کی ابوہریرہ سے حدیث کی طرح ہے۔
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4770)
وله شاھد عند أحمد (2/433 ح9598 وسنده حسن) وحديث البخاري (3538) ومسلم (2133) يغني عنه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4965
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي" , قَالَ أبو داود: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ , وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ جَابِرٍ , وَسُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ , عَنْ جَابِرٍ , وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ , نَحْوَهُمْ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوصالح نے ابوہریرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسی طرح ابوسفیان، سالم بن ابی الجعد، سلیمان یشکری اور ابن منکدر وغیرہ کی روایتیں بھی ہیں جو جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اسی طرح ہے (یعنی اس میں بھی یہی ہے کہ میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4965]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العلم 38 (110)، المناقب 20 (3539)، الأدب 106 (6188)، صحیح مسلم/الأداب 1 (2134)، سنن ابن ماجہ/الأدب 33 (3735)، (تحفة الأشراف: 14434)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/248، 260، 270)، سنن الدارمی/الاستئذان 58 (2735) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6188) صحيح مسلم (2134)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں