سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
92. باب ما جاء في المزاح
باب: ہنسی مذاق (مزاح) کا بیان۔
حدیث نمبر: 5001
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ، قَالَ: إِنَّمَا قَالَ: أَدْخُلُ كُلِّي مِنْ صِغَرِ الْقُبَّةِ.
عثمان بن ابی العاتکہ کہتے ہیں کہ انہوں نے جو یہ پوچھا کہ کیا پورے طور پر اندر آ جاؤں تو اس وجہ سے کہ خیمہ چھوٹا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5001]
عثمان بن ابوعاتکہ نے بیان کیا کہ (مذکورہ بالا قصے میں) سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے جو کہا: ”میں سارا ہی اندر آ جاؤں۔“ یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ خیمہ چھوٹا سا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5001]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10918، 19003) (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
سنده صحيح إلٰي عثمان بن أبي العاتكة وعثمان ضعيف بنفسه
سنده صحيح إلٰي عثمان بن أبي العاتكة وعثمان ضعيف بنفسه
حدیث نمبر: 4999
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ:" اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ عَالِيًا، فَلَمَّا دَخَلَ تَنَاوَلَهَا لِيَلْطِمَهَا، وَقَالَ: أَلَا أَرَاكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْجِزُهُ، وَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مُغْضَبًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ: كَيْفَ رَأَيْتِنِي أَنْقَذْتُكِ مِنَ الرَّجُلِ , قال: فَمَكَثَ أَبُو بَكْرٍ أَيَّامًا، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَهُمَا قَدِ اصْطَلَحَا، فَقَالَ: لَهُمَا أَدْخِلَانِي فِي سِلْمِكُمَا كَمَا أَدْخَلْتُمَانِي فِي حَرْبِكُمَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ فَعَلْنَا قَدْ فَعَلْنَا".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو سنا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا اونچی آواز میں بول رہی ہیں، تو وہ جب اندر آئے تو انہوں نے انہیں طمانچہ مارنے کے لیے پکڑا اور بولے: سنو! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بلند کرتی ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روکنے لگے اور ابوبکر غصے میں باہر نکل گئے، تو جب ابوبکر باہر چلے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھا تو نے میں نے تجھے اس شخص سے کیسے بچایا“ پھر ابوبکر کچھ دنوں تک رکے رہے (یعنی ان کے گھر نہیں گئے) اس کے بعد ایک بار پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تو ان دونوں کو پایا کہ دونوں میں صلح ہو گئی ہے، تو وہ دونوں سے بولے: آپ لوگ مجھے اپنی صلح میں بھی شامل کر لیجئے جس طرح مجھے اپنی لڑائی میں شامل کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے شریک کیا، ہم نے شریک کیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4999]
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت چاہی، تو انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آواز سنی جو قدرے بلند تھی۔ جب وہ اندر آئے تو انہوں نے انہیں طمانچہ مارنے کے لیے پکڑا اور بولے: ”میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کرتی ہو۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بچانے لگے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ غصے سے باہر نکل آئے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ چلے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھا! میں نے تجھے اس آدمی سے کیسے بچایا؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چند دن توقف کیا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (ملنے کے لیے) اجازت چاہی اور انہیں پایا کہ ان کی صلح ہو چکی ہے۔ تو ان سے کہا: ”مجھے بھی اپنی صلح میں شامل کر لو جیسے تم نے مجھے اپنی لڑائی میں شامل کیا تھا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے کر لیا، ہم نے کر لیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4999]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11637)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/272، 275) (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن وسقط ذكره من السنن الكبري للنسائي (8495) ! وانظر (ص 185)
و حديث أحمد (4/ 275 ح 18421) سنده صحيح و ھو مختصر و يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 174
إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن وسقط ذكره من السنن الكبري للنسائي (8495) ! وانظر (ص 185)
و حديث أحمد (4/ 275 ح 18421) سنده صحيح و ھو مختصر و يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 174