🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
95. باب ما جاء في الشعر
باب: شعر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5016
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:"وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ سورة الشعراء آية 224، فَنَسَخَ مِنْ ذَلِكَ وَاسْتَثْنَى، فَقَالَ: إِلا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا سورة الشعراء آية 227".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ  «والشعراء يتبعهم الغاوون» شاعروں کی پیروی وہ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے ہوں (الشعراء: ۲۲۴) میں سے وہ لوگ مخصوص و مستثنیٰ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے «إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات وذكروا الله كثيرا‏» سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا (الشعراء: ۲۲۷) میں بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5016]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کریمہ ﴿وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾ [سورة الشعراء: 224] شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ کی تفسیر میں فرمایا کہ اس کے عموم کو منسوخ کر کے اصحاب ایمان کو مستثنیٰ کر دیا گیا ہے اور فرمایا ہے: ﴿إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا﴾ [سورة الشعراء: 227] مگر وہ لوگ جو ایمان لائے، نیک عمل کیے اور اللہ کا بہت ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5016]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6268) (حسن الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5009
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا" , قال أَبُو عَلِيٍّ: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهُ قَالَ وَجْهُهُ: أَنْ يَمْتَلِئَ قَلْبُهُ حَتَّى يَشْغَلَهُ عَنِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ، فَإِذَا كَانَ الْقُرْآنُ وَالْعِلْمُ الْغَالِبَ، فَلَيْسَ جَوْفُ هَذَا عِنْدَنَا مُمْتَلِئًا مِنَ الشِّعْرِ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا , قال: كَأَنَّ الْمَعْنَى: أَنْ يَبْلُغَ مِنْ بَيَانِهِ: أَنْ يَمْدَحَ الْإِنْسَانَ فَيَصْدُقَ فِيهِ حَتَّى يَصْرِفَ الْقُلُوبَ إِلَى قَوْلِهِ، ثُمَّ يَذُمَّهُ فَيَصْدُقَ فِيهِ حَتَّى يَصْرِفَ الْقُلُوبَ إِلَى قَوْلِهِ الْآخَرِ، فَكَأَنَّهُ سَحَرَ السَّامِعِينَ بِذَلِكَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے لیے اپنا پیٹ پیپ سے بھر لینا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ شعر سے بھرے، ابوعلی کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: اس کی شکل (شعر سے پیٹ بھرنے کی) یہ ہے کہ اس کا دل بھر جائے یہاں تک کہ وہ اسے قرآن، اور اللہ کے ذکر سے غافل کر دے اور جب قرآن اور علم اس پر چھایا ہوا ہو تو اس کا پیٹ ہمارے نزدیک شعر سے بھرا ہوا نہیں ہے (اور آپ نے فرمایا) بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں یعنی ان میں سحر کی سی تاثیر ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں: اس کے معنی گویا یہ ہیں کہ وہ اپنی تقریر میں اس مقام کو پہنچ جائے کہ وہ انسان کی تعریف کرے اور سچی بات (تعریف میں) کہے یہاں تک کہ دلوں کو اپنی بات کی طرف موڑ لے پھر اس کی مذمت کرے اور اس میں بھی سچی بات کہے، یہاں تک کہ دلوں کو اپنی دوسری بات جو پہلی بات کے مخالف ہو کی طرف موڑ دے، تو گویا اس نے سامعین کو اس کے ذریعہ سے مسحور کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5009]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے یہ اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ اسے شعروں سے بھرے۔ جناب ابوعلی (ابوعلی لؤلؤی) رحمہ اللہ نے کہا: اس ارشاد کی توضیح میں جناب ابوعبید رحمہ اللہ کا یہ قول ہمیں پہنچا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص شعر و شاعری میں اس قدر منہمک ہو جائے کہ قرآن کریم اور اللہ کے ذکر ہی سے غافل ہو جائے (تو انتہائی مذموم ہے)۔ لیکن قرآن کریم اور مشغلہ علم غالب رہے تو ایسا آدمی ہمارے خیال میں اس کا مصداق نہیں بنتا کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھرا ہو۔ (اور یہ حدیث کہ) «إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا» بلاشبہ کئی بیان جادو ہوتے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی انسان کسی کی مدح سرائی پر آئے تو اس عمدگی سے کرے کہ لوگوں کے دل اس کی طرف مائل ہو جائیں اور پھر جب اس کی مذمت کرنے لگے تو اس انداز سے کرے کہ لوگ اس کی اس دوسری بات کے پیچھے لگ جائیں۔ گویا کہ اس نے سامعین کو اپنی بات سے مسحور کر دیا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5009]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأدب 92 (6155)، صحیح مسلم/الشعر ح 7 (2257)، سنن الترمذی/الأدب 71 (2851)، سنن ابن ماجہ/الأدب 1 (3759)، (تحفة الأشراف: 12404)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/288، 331، 355، 391، 480) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البخاري (6155) مسلم (2257)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5010
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ،عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض اشعار دانائی پر مبنی ہوتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5010]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ کئی شعر حکمت بھرے ہوتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5010]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأدب 9 (6145)، سنن ابن ماجہ/الأدب 41 (3755)، (تحفة الأشراف: 59)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/125، 126)، سنن الدارمی/الاستئذان 68 (2746) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6145)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5011
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا".
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور باتیں کرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض بیان جادو ہوتے ہیں اور بعض اشعار «حكم» ۱؎ (یعنی حکمت) پر مبنی ہوتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5011]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اپنے مخصوص انداز میں باتیں کرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ کئی بیان جادو ہوتے ہیں اور بلاشبہ کئی شعر حکمت ہوتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5011]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأدب 69 (2845)، سنن ابن ماجہ/الأدب 41 (3756)، (تحفة الأشراف: 6106)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/269، 309، 313، 327، 332) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہاں «حُکْم» ، «حِکْمَتْ» کے معنی میں ہے جیسا کہ آیت کریمہ «وآتیناہ الحُکْمَ صبیّاً» میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد انظر الحديثين السابقين (5009، 5010)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5013
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ , وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ:" مَرَّ عُمَرُ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ".
سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں گھور کر دیکھا، تو انہوں نے کہا: میں شعر پڑھتا تھا حالانکہ اس (مسجد) میں آپ سے بہتر شخص (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود ہوتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5013]
جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ مسجد (مسجد نبوی) میں شعر پڑھ رہے تھے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیز نظروں سے دیکھا تو انہوں نے جواب دیا: بلاشبہ میں اس (مسجد) میں شعر پڑھا کرتا تھا اور اس میں وہ عظیم ہستی موجود ہوتی تھی جو آپ سے کہیں زیادہ افضل تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5013]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/بدء الخلق 6 (3212)، صحیح مسلم/فضائل الصحابہ 34 (2485)، سنن النسائی/المساجد 24 (717)، (تحفة الأشراف: 3402)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/222) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث الآتي (5014)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5014
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِمَعْنَاهُ زَادَ فَخَشِيَ أَنْ يَرْمِيَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجَازَهُ.
اس سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے تو وہ (عمر رضی اللہ عنہ) ڈرے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کو بطور دلیل پیش نہ کر دیں چنانچہ انہوں نے انہیں (مسجد میں شعر پڑھنے کی) اجازت دے دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5014]
جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا، اس میں مزید ہے کہ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیال ہوا کہ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت پیش کر دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے ان کو اجازت دے دی (کہ وہ مسجد میں شعر پڑھ سکتے ہیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5014]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3402) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3212) صحيح مسلم (2485)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5015
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ لُوَيْنٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ , وَهِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ، فَيَقُومُ عَلَيْهِ يَهْجُو مَنْ قَالَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ مَعَ حَسَّانَ مَا نَافَحَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھتے، وہ اس پر کھڑے ہو کر ان لوگوں کی ہجو کرتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کرتے تھے، تو (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً روح القدس (جبرائیل) حسان کے ساتھ ہوتے ہیں جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5015]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد نبوی میں منبر رکھوا دیا کرتے تھے۔ پس وہ اس پر کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذمت کرنے والوں کی ہجو کیا کرتے تھے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسان جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کریں، روح القدس (جبرائیل امین) اس کے ساتھ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5015]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأدب 69 (2846)، (تحفة الأشراف: 17020، 16351)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/فضائل الصحابہ 34 (2485)، مسند احمد (6/72) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4805)
أخرجه الترمذي (2846 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں