سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
110. باب ما يقول إذا أصبح
باب: صبح کے وقت کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 5069
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ مَكْحُولٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ أَوْ يُمْسِي: اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ، وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلَائِكَتَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، أَعْتَقَ اللَّهُ رُبُعَهُ مِنَ النَّارِ، فَمَنْ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ: أَعْتَقَ اللَّهُ نِصْفَهُ، وَمَنْ قَالَهَا ثَلَاثًا: أَعْتَقَ اللَّهُ ثَلَاثَةَ أَرْبَاعِهِ، فَإِنْ قَالَهَا أَرْبَعًا: أَعْتَقَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ دعا پڑھے «اللهم إني أصبحت أشهدك وأشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك أنك أنت الله لا إله إلا أنت وأن محمدا عبدك ورسولك» ”اے اللہ! میں نے صبح کی، میں تجھے اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں کو تیرے فرشتوں کو اور تیری ساری مخلوقات کو گواہ بناتا ہوں کہ: تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں“ تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک چوتھائی حصہ جہنم سے آزاد کر دے گا، پھر جو دو مرتبہ کہے گا اللہ اس کا نصف حصہ آزاد کر دے گا، اور جو تین بار کہے گا تو اللہ اس کے تین چوتھائی حصے کو آزاد کر دے گا، اور اگر وہ چار بار کہے گا تو اللہ اسے پورے طور پر جہنم سے نجات دیدے گا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5069]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح یا شام کے وقت درج ذیل دعا پڑھ لے، تو اللہ تعالیٰ اس کا چوتھائی حصہ آگ سے آزاد فرما دے گا۔ اور جو شخص اسے دو بار پڑھے، اللہ اس کا آدھا حصہ آگ سے آزاد کر دے گا۔ اور جو شخص اسے تین بار پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کا تین چوتھائی آگ سے آزاد کر دے گا۔ اور جو شخص چار بار پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اسے (کامل طور پر) آگ سے آزاد فرما دے گا۔“ (دعا کے کلمات یہ ہیں) «اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ، وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ، وَمَلَائِكَتَكَ، وَجَمِيعَ خَلْقِكَ، أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ» ”اے اللہ! میں نے صبح کی ہے اور تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیرا عرش اٹھانے والے، دیگر فرشتوں اور تیری ساری مخلوق کو گواہ بناتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5069]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1603) (ضعیف)» (اس کے راوی عبدالرحمان بن عبدالمجید مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الحديث الآتي (5078) شاھد له
الحديث الآتي (5078) شاھد له
حدیث نمبر: 5078
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ، وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلَائِكَتَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ، أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا أَصَابَ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ مِنْ ذَنْبٍ، وَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي، غُفِرَ لَهُ مَا أَصَابَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ".
مسلم بن زیاد کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت «اللهم إني أصبحت أشهدك وأشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك أنك أنت الله لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك وأن محمدا عبدك ورسولك» ”اے اللہ! میں نے صبح کی میں تجھے اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں کو تیرے فرشتوں کو اور تیری تمام مخلوقات کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں“ کہا تو اس دن اس سے جتنے بھی گناہ سرزد ہوئے ہوں گے، سب معاف کر دیے جائیں گے، اور جس کسی نے ان کلمات کو شام کے وقت کہا تو اس رات میں اس سے جتنے گناہ سرزد ہوئے ہوں گے سب معاف کر دئیے جائیں گے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5078]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح کے وقت یہ کہہ لے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ، أُشْهِدُكَ، وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ، وَمَلَائِكَتَكَ، وَجَمِيعَ خَلْقِكَ، أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ، وَرَسُولُكَ» ”اے اللہ! میں نے صبح کی، تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیرے حاملینِ عرش، دوسرے فرشتوں اور تیری ساری مخلوق کو گواہ بناتا ہوں کہ بے شک تو ہی اللہ ہے، تیرے ایک اکیلے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تیرا کوئی ساجھی نہیں اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔“ تو وہ اس دن میں جو گناہ بھی کرے گا، اللہ اسے معاف کر دے گا۔ اور اگر شام کو یہ کہہ لے تو اس رات میں جو گناہ اس سے ہوں، معاف کر دیے جائیں گے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5078]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 79 (3501)، وانظر رقم: 5069، (تحفة الأشراف: 1587) (ضعیف)» (اس کے راوة بقیہ اور مسلم بن زیاد دونوں ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2398)
بقية بن الوليد صرح بالسماع المسلسل عند النسائي في عمل اليوم ولليلة (9)
مشكوة المصابيح (2398)
بقية بن الوليد صرح بالسماع المسلسل عند النسائي في عمل اليوم ولليلة (9)