سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
137. باب في الاستئذان
باب: گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5173
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرٍ، عَنْ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا دَخَلَ الْبَصَرُ فَلَا إِذْنَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نگاہ اندر پہنچ گئی تو پھر اجازت کا کوئی مطلب ہی نہیں“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5173]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نظر اندر چلی گئی تو پھر اجازت کیسی؟“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5173]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 14808)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/366) (ضعیف)» (اس کے راوی کثیر بن زید ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه أحمد (2/366) كثير بن زيد والوليد بن رباح كلاھما حسن الحديث
أخرجه أحمد (2/366) كثير بن زيد والوليد بن رباح كلاھما حسن الحديث
حدیث نمبر: 5174
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ هُزَيْلٍ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ، قَالَ عُثْمَانُ: سَعْدٌ، فَوَقَفَ عَلَى بَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ، قَالَ عُثْمَانُ: مُسْتَقْبِلَ الْبَابِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا عَنْكَ أَوْ هَكَذَا فَإِنَّمَا الِاسْتِئْذَانُ مِنَ النَّظَرِ".
ہزیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، (عثمان کی روایت میں ہے کہ وہ سعد بن ابی وقاص تھے) تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر اجازت طلب کرنے کے لیے رکے اور دروازے پر یا دروازے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہیں اس طرح کھڑا ہونا چاہیئے یا اس طرح؟ (یعنی دروازہ سے ہٹ کر) کیونکہ اجازت کا مقصود نظر ہی کی اجازت ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5174]
سیدنا ہذیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص، اور بقول عثمان بن ابی شیبہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت طلب کرنے لگے، عثمان بن ابی شیبہ نے وضاحت کی کہ وہ دروازے کے عین سامنے کھڑے ہو گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اس طرف ہٹ کر کھڑے ہو یا اس طرف، اجازت لینے کا حکم نظر ہی کی وجہ سے ہے (کہ انسان اندر نہ جھانکے)۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5174]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3946) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش مدلس وعنعن
وفي الرواية الثالثة : الرجل ھو ھزيل بن شرحبيل والحديث السابق (الأصل : 5173) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
إسناده ضعيف
الأعمش مدلس وعنعن
وفي الرواية الثالثة : الرجل ھو ھزيل بن شرحبيل والحديث السابق (الأصل : 5173) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179